82

نواز شریف کا ایک مطالبہ بھی آئین کے خلاف ہو توعوام ساتھ نہ دے،مریم نواز

مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کا ایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہو تو عوام ہمارا ساتھ نہ دے۔
مریم نواز نے شیر جوان فورس کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اپنا حق مانگے تو اسے کالے پانی کی سزا سنا دی جائے ۔بلوچستان میں سوئی سے نکلنے والی گیس پورا ملک استعمال کرتا ہے۔لیکن وہاں کے بچوں کے اسکالرشپس ختم کر دئیے گئے ۔وہ بچے 12 دن سڑکوں پر لانگ مارچ کرتے رہے لیکن حکومت میں سے کسی کو ان کی بات سننے کی توفیق نہ ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں آئی جی سندھ کو اغوا کر کے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔کیا ریاست اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے کمرے میں گھستی ہے یا انہیں تحفظ دیتی ہے؟ کیا پولیس والے انسان نہیں ہوتے، کیا پولیس کی وردی کمتر وردی ہے؟
مریم نواز نے کہا کہ آئین عوام کے حقوق کی کتاب ہے جس میں لکھا ہے کہ پاکستان میں کیا ہو گا اور کیا نہیں ہو گا۔ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ کس کا کیا کام ہے اور کیا نہیں ہے ۔ آئین پڑھیں اور دیکھیں کہ نواز شریف کے مطالبات کیا ہیں۔ اگر نواز شریف کا ایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہے تو پھر نواز شریف اور مریم نواز کا ساتھ نہ دینا۔ نواز شریف آئین اور حلف کی پاسداری، عدلیہ کی آزادی کی بات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسی کو فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ کرنے پر عدلیہ سے نکالنے کی سازش کی گئی۔ تاہم ہم نے فوج پر الزام نہیں لگانا۔ ہم نے اس وردی کو داغدار کرنے والوں کو پہچاننا ہے اور پھر انہیں وردی کی آڑ نہیں لینے دینی۔ نواز شریف کو پتہ ہے کہ عوام کو سب سمجھ آ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ آپ سے قوم سوال کر رہی ہے کہ آپ کے پاس کھربوں کی جائیداد کیسے آئی۔3 بار کا وزیراعظم انتقام نامہ کے سامنے پیش ہو سکتا ہے تو کیا پاکستان میں کوئی مقدس گائے ہے؟یہاں آسمان سے کوئی نہیں اترا، یہاں سب کو جواب دینا پڑے گا۔نواز شریف عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی بات کر رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف آئین پاکستان کو جوتوں کے نیچے روندنے والوں کو سزا دینے کی بات کرتا ہے تاکہ مشرف جیسا کوئی دوسرا پیدا نہ ہو۔ نواز شریف ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتا ہے تاکہ ووٹ جس کو دیا جائے تو اسی کے نام نکلے۔
مریم نواز نے کہا کہ ووٹ کو عزت ملتی ہے تو لیپ ٹاپ، اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں بنتی ہیں اور لوڈشیڈنگ و دہشت گردی ختم ہو جاتے ہیں۔ڈرون حملے بھی ووٹ کو عزت دینے سے ختم ہوتے ہیں ۔ووٹ کو عزت دینے سے دشمن خود آپ کے پاس آ کر آپ کو تسلیم کرتا ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایاز صادق کے بیان کے بعد ایک وفاقی وزیر کے بیان سے دنیا میں تاثر گیا کہ پلوامہ کے پیچھے پاکستان تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ایاز صادق کے بیان کے بعد ہوتی ہے لیکن وفاقی وزیر کے الزمات پر ایسی پریس کانفرنس کیوں نہیں ہوتی ۔ایاز صادق نے تو سلیکٹڈ حکومت کے حوالے سے بات کی تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کو اداروں کو سیاست میں گھسینٹنا سوٹ کرتا ہے۔ ادارے ہم سب کے ہیں، پالیسی پر نظرثانی ہونی چاہیئے تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ ادارے کسی ایک سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں