207

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلیے درخواست پر سماعت کل تک ملتوی

سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کے لیے درخواست پر سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے غیر مشروط طور پر فوری نکلوانے کے لیے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر سماعت کی، اس موقع پر حکومت کے وکیل نے نواز شریف کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اب رہا ہیں درخواست انہیں دائر کرنی چاہیے تھی۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرط عائد کرے، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کس نیب نے نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا۔ عدالت نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف واقعی ملک سے باہر علاج کے لیے جانا چاہتے جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ جی اگر انہیں اجازت ملے گی تو جائیں گے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
شہباز شریف کی ہائی کورٹ میں درخواست؛
اس سے قبل صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے غیر مشروط طور پر نکلوانے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے جس میں وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ سے نواز شریف کی ضمانت بیماری کی بنیاد پر منظور ہوچکی ہے، ضمانت منظور ہونے کے باوجود وفاقی وزارت داخلہ نے نام ای سی ایل سے نہیں نکالا، نواز شریف سزا یافتہ ہونے کے باوجود بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر بیٹی کیساتھ پاکستان واپس آئے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے ای سی ایل سے نام نکالنے کے حوالے سے کوئی قدغن نہیں لگائی تاہم وفاقی کابینہ نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر شرائط عائد کر دی ہیں لہذا نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے۔
کیس کا پس منظر؛
گزشتہ روز حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو 4 ہفتوں کے لیے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی تھی جب کہ وزرات داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری میمورنڈم میں 80 لاکھ پاؤنڈ، 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر، 1.5 ارب روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی۔
حکومت کی جانب سے باہر جانے کے لیے 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی شرط پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے بیرون ملک جانے سے انکار کرتے ہوئے عدالت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں