243

وزیراعظم ہاؤس کی عمارت کویونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا

وزیر اعظم ہاؤس کی عمارت کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ سیکیورٹی اور قانونی پیچید گیوں کے سبب کھٹائی میں پڑگیا۔
وفاقی دارالحکومت میں قائم وزیراعظم ہاؤس کو اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی (آئی این یو) میں تبدیل کرنے کا منصوبہ سیکیورٹی اورقانونی پیچیدگیوں کے سبب کھٹائی میں پڑ گیا ہے، وزیراعظم ہاؤس ریڈزون میں ہونے اور اسلام آباد کے ماسٹرپلان میں اس زمین وعمارت کی حیثیت میں کسی ممکنہ تبدیلی کے سبب کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد (سی ڈی اے) نے پرائم منسٹرہاﺅس کی عمارت کویونیورسٹی میں منتقل کرنے کی تجویز پراعتراض لگادیاہے جس کے بعد ایچ ای سی نے وزیراعظم ہاؤس کی عمارت کویونیورسٹی میں منتقل کرنے کے منصوبے پر کام بظاہر روک دیاہے۔
اعتراض کے سبب اعلیٰ تعلیمی کمیشن اسلام آباد نے وزیراعظم ہاؤس کی عمارت سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور موجود میدان میں ایک نئی عمارت تعمیر کرکے اس میں اعلیٰ تعلیمی ادارہ (ہائرایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ) قائم کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے تاہم یہ ادارہ بھی یونیورسٹی کے بجائے ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوٹ ہوگا جس میں ریسرچ کے لیے تین سے چارشعبے ہی کام کرسکیں گے اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پرائم منسٹرہاﺅس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا اعلان بظاہر شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکے گا بلکہ اس کی جگہ ایک نئی عمارت میں مجوزہ ادارہ قائم کرنا پڑے گا۔
اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی ترجمان عائشہ اکرام نے مذکورہ معاملے پرسی ڈی اے کے اعتراض کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ ای سی کوسی ڈی اے کی جانب سے جواب اوراس حوالے سے حکومت پاکستان کے مزید کسی حکم نامے کا انتظار ہے کیونکہ ایچ ای سی نے پی سی ون جمع کرادیاہے جب کہ یونیورسٹی کا چارٹرمنظوری کے لیے تیار ہے تاہم یونیورسٹی کے قیام کے لیے اسلام آباد ماسٹرپلان کی تبدیلی کی جانی ہے کیونکہ وزیراعظم ہاؤس کے نام سے موجودجگہ پر یونیورسٹی کے قیام ایک معاملہ ضرورہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں وزیراعظم ہاؤس کویونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں دسمبر2018میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے ایک کانفرنس پرائم منسٹرہاﺅس میں ہی کرائی گئی تھی ایچ ای سی کے باوثوق ذرائع کہتے ہیں کہ اس کانفرنس کے انعقاد کے بعد سے تاحال خاموشی ہے اورسی ڈی اے کے اعتراض کے بعد سے اس پروجیکٹ پر بظاہرکوئی پیش رفت نہیں ہورہی بلکہ وزیراعظم ہاؤس کی عمارت کویونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے بجائے اب عمارت سے آدھے کلومیٹرکے فاصلے پر ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام پر بات کی جارہی ہے۔
کانفرنس میں شرکت کرنے والے ایک ماہر تعلیم نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے افسران سمیت درجنوں شرکاء کو یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے دسمبر میں منعقدہ اس کانفرنس کے لیے وزیراعظم ہاؤس تک پہنچنے کے لیے کم از کم تین سیکیورٹی حصار سے چیکنگ سے گزاراگیاجس کے بعد یہ بات متعلقہ حکام میں زیربحث آئی کہ اگراس عمارت میں یونیورسٹی قائم کردی جائے گی تویہاں داخلہ لینے والے طلبہ روزانہ کی بنیادپرکسی طرح یونیورسٹی پہنچ سکیں گے۔
ادھر اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ذرائع نے”بتایا کہ وزیراعظم ہاؤس کی موجودہ عمارت کو یونیورسٹی کی حیثیت دینے کے امکانات معدوم ہوجانے کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ اگروفاقی حکومت اس عمارت سے آدھا کلومیٹر دورموجود کسی اراضی پریونیورسٹی قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے تو کیا وزیراعظم ہاؤس کے احاطے میں موجود زمین کایہ ٹکڑا اس یونیورسٹی کے نام منتقل کیا جاسکے گا جب کہ اطراف کا علاقہ وزیراعظم ہاﺅس ہی ہوگا اسی طرح ایچ ای سی کے قوائد کے مطابق کسی یونیورسٹی کی تعمیرکے لیے 10ایکڑاراضی ضروری ہے کیا وفاقی حکومت یونیورسٹی کے استعمال کے لیے اس جگہ 10ایکڑ اراضی دے سکے گی یا پھرایچ ای سی اپنے قوائد وضوابط پر خود ہی سمجھوتا کرے گی۔
متعلقہ افسرنے بتایا کہ فی الحال اس یونیورسٹی کے قیام میں کئی دیگرتکنیکی مسائل موجودہیں جس کے سبب ایچ ای سی کواین اوسی دینے میں دشواری کاسامنا ہے فی الحال یہ زمین سرکاری کے نام ہے یونیورسٹی کے قیام کے لیے زمین کس کے نام ہوگی۔ اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کی رہائشی کالونی کے قریب زمین دینے کی تجویز ہے جہاں یونیورسٹی کے بجائے ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوٹ قائم ہو پائے گا اور فیڈرل منسٹری آف ایجوکیشن اس کے چارٹر پر کام کررہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں