268

وزیر اعظم کا سعودی عرب کا دوسرا دورہ آئی ایم ایف سے بچنے کی کوشش

وزیر اعظم عمران خان 5 ہفتوں کی مختصر مدت کے دوران دوسری مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے جس کا مقصدآئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام سے بچنے کے لیے مالی امداد کا حصول ہے یا پھر یہ کہ عالمی مالیاتی ادارے سے مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکیں۔
وزیراعظم آفس کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان 22 اور 23 اکتوبر کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے، عمران خان کا یہ دورہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج کے حصول کے لیے طے شدہ مذاکرات سے محض دو ہفتے قبل کیا جا رہا ہے، جو کہ 7 نومبر کو شروع ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم دورے کے دوران سعودی شاہی خاندان کو مالی امداد کے حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ پاکستان موجودہ معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور چین سے 5 ارب ڈالر ملنے کی تلاش میں ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دوسرے دورے کی اطلاعات اس وقت سامنے آنا شروع ہوئیں جب عمران خان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ شاید حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے تاہم اسی روز وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا پروگرام ابھی بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے پاس نہ جانے کا واحد آپشن مالیاتی ادارے کی طرف سے سخت شرائط عائد کرنا ہے۔
وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اگلے ہفتے سعودی عرب کا دورہ کریں گے جس کا مقصد ریاض میں منعقدہ عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کرنا ہے۔
توقع ہے پاکستان بھی سرمایہ کاری کیلیے یقین دہانی حاصل کر لے گا، فواد چوہدری
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پرکشش بیرونی سرمایہ کاری کا حصول حکومت کی اولین ترجیح میں شامل ہے، پچھلے سال ریاض عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں 22 ٹریلین ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور اس سال توقع ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کی حد 23 ٹریلین ڈالر ہو جائے گی، ہمیں توقع ہے کہ پاکستان بھی سرمایہ کاری کے لیے عالمی برادری کی یقین دہانی حاصل کر لے گا۔
اس سوال پر کہ کیا پاکستان دورہ سعودی عرب کے بعد آئی ایم ایف کے پروگرام سے بچنے کی کوشش کرے گا؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب کا دورہ مالیاتی اداروں سے مذاکرات کے دوران پاکستان کے لیے ایک بہتر پوزیشن کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا، پاکستان کو معاشی صورتحال کی بہتری کے ایسے اشارے ملے ہیں جس سے ملک کا دوسر ے ذرائع پر انحصار کم ہوجائے گا۔
ان کاکہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر کو یہ پختہ یقین ہے کہ پاکستان اپنے دوست ممالک اور مالیاتی اداروں کی معاونت سے اپنے 12 ارب ڈالر کے مالی خسارے کو پورا کرلے گا۔
پاکستان نے سرمایہ کاری کے حوالے سے اس کانفرنس سے توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔ سرمایہ کاری کانفرنس میں ترکی میں سعودی سفارت خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے غائب ہونے کے بعد امریکا نے آنے سے انکارکر دیا ہے جس کے بعد اس عالمی کانفرنس کو شدید دھچکا لگا ہے اور اب دنیا بھر سے متعدد وفود اور میڈیا گروپس عالمی کمپنیوں کے سربراہوں اور کانفرنس کے معاونین نے بھی کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسٹیومنچن اور برطانیہ کی عالمی تجارت سے متعلق وزیر لیام فاکس کی عدم شرکت کے بعد اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد کا حصول ناممکن ہوگیا ہے۔
علاوہ ازیں متعدد گلوبل بزنس اور فنانس سے متعلق کمپنیوں نے بھی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔ فرانسیسی ڈیفنس الیکٹرونکس گروپ کے چیئرمین پیٹرس کین اور تھیلزسپیس کمپنی نے شرکت سے معذرت کرلی ہے جبکہ اورامڈ گلوبل کمپنی نے اپنی تشویش سے بھی آگاہ کردیا ہے۔
ویسٹرن کوآپریٹ کے چیفس نے اپنے خدشات کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کانفرنس سے علیحدگی پر غور کر رہے ہیں اس کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے متعدد کمپنیاں انکارکر رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں