110

وزیر اعظم کی لاہور آمد، پنجاب حکومت نے سادگی پالیسی کی دھجیاں اڑا دیں

پنجاب حکومت نے وزیر اعظم کی سادگی پالیسی کی دھجیاں اڑا دیں، وزیر اعظم کی لاہور آمد پر پروٹوکول کی انتہا کرتے ہوئے سیکیورٹی اور ٹریفک کلیئرنس کے نام پر تین ایس پیز، 12 ڈی ایس پیز، 265 ٹریفک وارڈن اور 300 سے زائد پولیس کے جوان تعینات کردیے گئے۔
پنجاب حکومت نے سیکیورٹی کے انتظامات فول پروف بنانے کے لیے سڑکوں پر بیرئیر، خار دار تاریں اور قناتیں لگا کر راستے بند کرنے کے احکامات بھی جاری کیے، پنجاب حکومت کی جانب سے لاھور آمد پر عمران خان کے لیے شاہانہ پروٹوکول، وزیراعظم کی ایئرپورٹ سے ایوان وزیراعلیٰ آمد کے لیے دو روٹ بنائے گئے جبکہ ایوان وزیراعلی سے زمان پارک اور پھر زمان پارک سے اسلام آباد روانگی کے لیے بھی دو دو روٹ بنائے گئے۔
لاہور میں وزیراعظم کی سیکیورٹی پر 3 ایس پیز، 12 ڈی ایس پیز 265 ٹریفک وارڈن،7 پائلٹ اور 300 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ ائیرپورٹ سے لے کر 8 کلب تک متعدد ایس ایچ اوز، سرکل افسران بھی ڈیوٹی پر موجود تھے،روٹ کے دوران کسی قسم کی نقل و حرکت بند کر دی گئی تھی۔
وزیراعظم کی سیکیورٹی اور پروٹوکول پر مامور اہل کاروں کو شیو بنانے، شناختی کارڈ اپنی جیب میں رکھنے، چمکیلی جیکٹ، چھتری ساتھ رکھنے کے علاوہ دوران ڈیوٹی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنے کی خصوصی ہدایت بھی کی گئی پروٹوکول پر تعینات اہلکاروں کو نو نو گھنٹے کی دو شفٹوں میں ڈیوٹی پر مامور کیا گیا۔
کسی بھی اہلکار کو متعلقہ افسران کی جانب سے حکم ملنے تک اپنے پوائنٹ پر ڈیوٹی دینے کا پابند کیا گیا، وزیراعظم کے روٹ پر حساس مقامات پر بیریئر لگانے اور بیریئر دستیاب نہ ہونے کی صورت میں خاردار تاریں اور کپڑے کی کا قناتیں لگانے کے خصوصی احکامات دیے گئے، سادگی پسند وزیراعظم کے روٹ سے غیرضروری گاڑیوں کو ہٹانے کے لیے 13 فوک لفٹرز بھی روٹ پر لگائے گئے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا پروٹوکول بھی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرز کا پروٹوکول تھا،سابق وزیر اعظم کے بھی دو روٹ لگائے جاتے تھے اور سادگی و بغیر پروٹوکول کے دعوے کرنے والی حکومت کے بھی دو دو روٹ لگائے گئے۔ اہلکار وزیراعظم پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے ڈھائی گھنٹے قبل ہی ڈیوٹی پر موجود تھے جب کہ روٹ کے دوران ٹریفک سگنل کو بند رکھنے کے احکامات بھی دیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں