303

وکیل کے گاﺅن کے پیچھے جیب کیوں لگی ہوتی ہے؟

دو چار برس کی بات نہیں قصہ ڈیڑھ صدی کا۔ وکلاءنے کالے کوٹ کو تو اپنی پہچان بنالیا مگر اپنی اصل شناخت گاﺅن اور اس کی اہمیت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ سپریم کورٹ ہو یا لاہور ہائیکورٹ وکلاءکیلئے گاﺅن پہننا لازم ہے‘ یہ روایت ڈیڑھ سو سال پرانی ہے جس کا مقصد فائلین کو انصاف دلوانے کیساتھ ساتھ ان کی سفید پوشی کو بھی برقرار رکھنا تھا۔ گاﺅن میں جیب آگے نہیں پیچھے ہوتی ہے یعنی پیٹھ پر‘ جس میں سائل اپنی بساط کے مطابق فیس ڈال دیتا۔ گاﺅن کے بازﺅں پر بنی سلوٹیں قانونی پیچیدگیاں ظاہر کرتی ہیں جو وکیل اپنی قانونی مہارت سے عدالت میں حل کرتا۔ نئے زمانے میں وکلاءکے انداز بھی بدل گئے۔ لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہونے والے کئی نامور وکلاءبھی گاﺅن کی روایت سے بے خبر ہیں۔ وقت بدلا‘ قوانین بدلے مگر گاﺅن پہننے والے وکلاءآج بھی جوشیلے ہیں۔ گاﺅن پہننے کے مقاصد تو عظیم ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے پہننے والے اس کی اہمیت کو بھول گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں