229

لاہور میں وکلاء کا امراض قلب کے اسپتال پر دھاوا، طبی امداد نہ ملنے پر خاتون جاں بحق

وکلاء نے لاہور میں امراض قلب کے اسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بول دیا اور آپریشن تھیٹر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔
لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا، مشتعل وکلاء کی بڑی تعداد پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر میں داخل ہوگئی اور توڑ پھوڑ کی تاہم اس دوران اسپتال کا عملہ اور ڈاکٹرز بڑی مشکل سے جان بچا کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، اس کے علاوہ وکلا نے پی آئی سی میں کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا جب کہ اسپتال کے باہر کھڑے پولیس اہلکاروں نے بھی وکلا کو توڑ پھوڑ سے نہ روکا۔
وکلاء کی اسپتال میں توڑ پھوڑ؛
اسپتال میں وکلا کی توڑ پھوڑ کے بعد پی آئی سی ملازمین اور وکلا میں تصادم بھی دیکھنے میں آیا اور وکلا نے پولیس گاڑی کو آگ لگا دی تاہم صورتحال مزید خراب ہونے پر سی سی پی او ذوالفقار حمید پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ اسپتال پہنچ گئے جہاں پولیس کی جانب سے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جارہا ہے۔
خاتون جاں بحق؛
اسپتال ذرائع کے مطابق وکلا کے حملے کے باعث طبی امداد نہ ملنے پی آئی سی میں ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں، خاتون کی شناخت گلشن بی بی کے نام سے ہوئی ہے۔
فیاض الحسن چوہان پر وکلاء کا تشدد؛
صورتحا کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان پی آئی سے کے باہر پہنچے جہاں وکلا نے انہیں گھیر لیا اور تشدد کیا تاہم فیاض الحسن چوہان نے بھاگ کر جان بچائی۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے آیا تھا تاہم وکلا نے اغوا کرنے کی کوشش کی، کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں، وکلا کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس؛
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیا اور واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ کوئی قانون سے بالا ترنہیں، دل کے اسپتال میں ایسا واقعہ ناقابل برداشت ہے، مریضوں کے علاج معالجے میں رکاوٹ ڈالنا غیر انسانی اور مجرمانہ اقدام ہے۔
وزیراعظم کا نوٹس؛
وزیراعظم عمران خان نے پی آئی سی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
تنازع کا پس منظر؛
واضح رہے کہ چند روز قبل ایک وکیل نے دعویٰ کیا کہ اس کے رشتے دار کو اسپتال میں صحیح توجہ نہیں دی گئی جب کہ وکلا نے ڈاکٹرز پر اپنا مذاق اڑانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ بعدازاں یہ معاملہ بڑھتے بڑھتے سنگین صورتحال اختیار کرگیا اور نوبت اسپتال پر وکلا کے حملے اور مریضوں کے جاں بحق ہونے تک پہنچ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں