188

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، حکومت اوراپوزیشن دشمن کیخلاف یک زبان

پاک بھارت کشیدگی پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن نے تمام اختلافات کو ختم کرکے دشمن کے خلاف متحد ہونے کا عزم کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف شریک ہوئے۔ ایوان میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور بھارتی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کا جائزہ لیا۔
ایوان میں آج مختلف ماحول دیکھنے میں آیا، حکومتی و اپوزیشن ارکان گھل مل گئے اور ایک دوسرے سے مصافحہ کیا جس سے پارلیمنٹ میں اتحاد کی فضا دیکھنے میں آئی۔ اس موقع پر ارکان نے نعرے لگائے اور ایوان پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اس سے دشمن کو یہ پیغام گیا کہ کڑے وقت میں حکومت اور اپوزیشن اختلافات ختم کرکے متحد ہوجاتے ہیں۔
وزیراعظم
وزیراعظم عمران خان نے ایوان کو اعتماد میں لیا اور پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش خطرات کے وقت قوم اکٹھی ہے، برصغیر کی ترقی کرنے کے لیے امن ضروری ہے اور تمام مسائل کو مذاکرات سے حل کرنا چاہیے، بھارت کو بارہا مذاکرات کی پیش کش کی اور امن کا پیغام بھیجا لیکن جواب اچھا نہیں آیا۔
عمران خان نے کہا کہ پہلے سے ڈر تھا کہ بھارت میں الیکشن سے قبل کوئی نہ کوئی واقعہ ہوگا جسے الیکشن کے لیے استعمال کیا جائے گا، یہ نہیں کہتا کہ پلوامہ میں بھارت کا اپنا ہاتھ تھا لیکن حملے کے فوری بعد پاکستان پر الزام لگانا بھی صحیح نہیں، مودی کی مجبوری ہے کہ الیکشن کی وجہ سے جنگی ماحول پیدا کیا جائے۔
وزیراعظم عمران خان نے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو کل رہا کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ثابت کہ پاکستان میں بھی جواب دینے کی صلاحیت ہے، میں نے کل شام کو مودی کو فون کرکے بات چیت کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہوا، امن کی کوشش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہمیں کسی سے ڈر نہیں ہے، لیکن جنگ ہمارے مفاد میں نہیں ہے، کل رات بھی میزائل حملے کا خطرے تھا جو خوش قسمتی سے ٹل گیا۔
شہباز شریف
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیارے گرا کر 1965 کی یاد تازہ کردی، بہادر مسلح افواج نے انتہائی شاندار کامیابی حاصل کی، دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی جنگوں میں وسائل جھونکے گئے ہیں، جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں، باالآخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑتا ہے، بھارتی مظالم کی وجہ سے کشمیر کی ہر وادی میں برہان وانی اور عادل ڈار پیدا ہوں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کو بھرپور تعاون کی پیش کش کرتے ہیں، دنیا کو متحدہ پاکستان اور متحدہ پارلیمنٹ کی ایک ہی آواز آئے گی، کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
مشترکہ اجلاس کل تک جاری رہے گا جس سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنما بھی اظہار خیال کریں گے۔ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان بھارت کی جارحیت کے خلاف تحریک پیش کریں گے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پارلیمنٹ کو سفارتی کوششوں سے آگاہ کریں گے۔
گزشتہ روز بھارتی جارحیت پر پارلیمانی رہنماؤں کا ان کیمرہ اجلاس ہوا تھا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بریفنگ دی تھی۔
آرمی چیف نے بھارتی جارحیت کے خلاف کیے گئے اقدامات پر پارلیمانی رہنماؤں کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کو ہم نے مؤثر جواب دیا ہے لیکن اس کی جانب سے مزید حرکت کا خدشہ موجود ہے۔ پارلیمانی رہنماؤں نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ہم متحد ہیں، جنگ کوئی آپشن نہیں ہے بلکہ پالیسی کی ناکامی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں