173

پاکپتن دربار اراضی کیس؛ جے آئی ٹی نے نواز شریف کو ذمہ دار قرار دے دیا

پاکپتن دربار اراضی کیس میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے نواز شریف کو محکمہ اوقاف کی زمین غیر قانونی طور پر دربار کے سجادہ نشین کو منقل کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار اراضی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی تو معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے زمین منتقل کرنے کے احکامات میں نواز شریف کو ذمہ دار قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے پنجاب حکومت کو بھی اپنا جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زمین کی الاٹ منٹ کس نے کی تھی؟۔ جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ زمین الاٹمنٹ اس وقت کے وزیراعلی پنجاب نواز شریف نے کی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف کدھر ہیں، انہوں نے کس اختیار کے تحت زمین الاٹ کر دی؟۔ نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے زمین الاٹمنٹ کی تردید کی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو انکوائری رپورٹ آ چکی ہے، ٹرائل کورٹ میں جرح ہوئی تو نواز شریف کے لیے بہت مشکل ہوگی۔ جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ نواز شریف کے سابق سیکرٹری 75 سال کے ضعیف شخص ہیں اور انہوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ وزیر اعلی نے زمین الاٹ کرنے کے احکامات دیے تھے۔
جے آئی ٹی نے نواز شریف، ان کے سیکرٹری جاوید اقبال بخاری، دربار کے سجادہ نشین کے ورثاء اور محکمہ اوقاف و محکمہ مال کے متعلقہ ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کردی۔
واضح رہے کہ 1985 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف نے پاکپتن میں دربار بابا فرید کے گرد محکمہ اوقاف کی اراضی غیر قانونی طور پر دربار کے سجادہ نشین کے نام الاٹ کردی تھی اور محکمہ اوقاف کا جاری کردہ زمین واپس لینے کا نوٹیفیکیشن بھی منسوخ کردیا تھا۔ بعدازاں سجادہ نشین کی جانب سے اس اراضی کو آگے فروخت کردیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں