227

پبلک ٹرانسپورٹ ناکافی، پرائیوریٹ گاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی

پاکستان میں بڑھتی ہوئی نمود و نمائش اور ناکافی و نامناسب پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی وجہ سے فی خاندان ایک سے زائد موٹر کار رکھنے کا رحجان بڑھ رہا ہے جبکہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں نجی اسکولز کالجز کیلیے ’’اسکول بس سروس‘‘ لازمی قرار نہ دینے کی وجہ سے صبح اور دوپہر کے اوقات میں ٹریفک کا سب سے زیادہ رش طلبا کو لانے لیجانے والی گاڑیوں کا ہوتا ہے جن میں عام طور پر ایک گاڑی ایک بچے کیلیے استعمال ہو رہی ہوتی ہے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی موٹرائزیشن (MOTORIZATION ) کی وجہ سے سڑکوں پر ’’بمپر ٹو بمپر‘‘ چلتی گاڑیوں کی طویل قطاروں نے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں بدل ڈالا ہے جبکہ دوسری جانب سفر کی لاگت اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے،بے ہنگم ٹریفک نے لوگوں میں عدم برداشت کا رویہ اور اشتعال انگیزی کو بڑھا دیا ہے ،2 دہائیوں کے دوران روڈ نیٹ ورک میں صرف 6 فیصد اضافہ ہو پایا ہے۔پنجاب میں اس وقت 82 ہزار کلومیٹر طویل چھوٹی بڑی سڑکیں موجود ہیں۔
اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پورے ملک میں قومی شاہراؤں کی لمبائی 2001 میں 249972 کلومیٹر تھی جو 19 برس بعد آج صرف 268935 کلومیٹر ہی ہوپائی ہے۔پاکستان بالخصوص پنجاب میں کاروں کی خریداری میں ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے۔
2017 میں ہونے والی مردم وخانہ شماری کے مطابق پاکستان میں گھروں کی مجموعی تعداد 32.20 ملین ہے جن میں سے دیہی علاقوں میں قائم گھروں کی تعداد 20.1 ملین اور شہری علاقوں کے گھروں کی تعداد 12.1 ملین ہے اور ایک گھر کے مکینوں کی اوسط تعداد 6.45 ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں سرکاری اور نجیاسکولز کیلیے ’’اسکول بس سروس‘‘ لازمی ہے۔ پاکستان میں ماہانہ ہزاروں (بعض لاکھوں) روپے فیس لینے والے اسکولز سمیت کسی بڑے نجی اسکول سسٹم نے باضابطہ طور پر اسکول بس سروس شروع نہیں کی۔
2017ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 14.1 ملین، لاہور کی 11.12 ،پشاور کی1.97 ملین ،راولپنڈی کی آبادی 2.09 ملین ہے۔ لاہور میں اس وقت ایل ٹی سی اور میٹرو بس اتھارٹی کے زیر انتظام 400 بسیں موجود ہیں جن میں سے کئی نان آپریشنل ہیں جبکہ ویگنوں کی تعداد 650 بتائی جاتی ہے جن میں شہری ’’مرغا‘‘ بن کر آج بھی سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018 میں پاکستان کے کمرشل بنکوں نے مجموعی طور پر کنزیومر فنانسنگ کیلیے47.8 ارب روپے قرضہ دیا جس میں سب سے زیادہ قرضہ 31 ارب روپے گاڑیوں کی خریداری کیلیے دیا گیا۔
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹر حنان سرفراز نے کہا کہ ٹریفک کا تعلق انسان کی شخصیت سے ہوتا ہے ،ہم انسانی رویے میں خرابی کو چار کٹیگریز میں تقسیم کرتے ہیں جن میں ایڈجسٹمنٹ ڈس آرڈر، موڈ ڈس آرڈر، پرسنلٹی ڈس آرڈر اور اینٹی سوشل پرسنلٹی شامل ہیں۔
لاہور ٹریفک پولیس کے سربراہ ملک لیاقت علی نے کہا کہ دنیا میں موٹرائزیشن کو روکا جارہا ہے کئی شہروں میں نئی گاڑیوں کی خریداری بند کر دی گئی ہے جبکہ کئی شہروں میں ’’کار فری ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے ڈائریکٹر رضوان اکرم شیروانی نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں گزشتہ چند برسوں میں کاروں کی رجسٹریشن میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں