421

پنجابی زبان کے نامور شاعر امین طرب صدیقی کی چھٹی برسی جہلم میں منائی گئی

پنجابی زبان کے ممتاز شاعر‘ ادیب اور استاد پروفیسر امین طرب صدیقی کی چھٹی برسی آج منائی گئی۔ ان کی بیٹیوں نے اس سلسلے میں ان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے ایک خصوصی محفل کا بھی اہتمام کیا اور درجات کی بلندی کیلئے دوست احباب نے دعائیں بھی کیں۔ یاد رہے کہ امین طرب صدیقی کا تعلق ضلع جہلم کے مضافاتی علاقے ”کالا گوجراں“ سے ہے اور وہ ایک عرصہ گورنمنٹ کالج جہلم میں تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ان کے دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ان کا پہلا شعری مجموعہ ”مٹی دا مان“ 1999 ءمیں شائع ہوا جبکہ دوسرا مجموعہ ”سفنیاں دی سانجھ“ ان کی وفات کے بعد جہلم کے ادبی حلقوں نے 2017ءمیں شائع کیا۔ ڈاکٹر غافر شہزاد نے ان کے بارے میں ایک بھرپور کالم لکھا جس میں وہ کہتے ہیں کہ طرب احمد صدیقی کی شاعری میں عہد موجود سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس میں آج کے انسان کے مسائل کی بھرپور اور حقیقت پسندانہ عکاسی کی گئی ہے۔ موضوعات کے تنوع نے ہر خاص و عام کیلئے قابل ستائش بنا دیا ہے۔ ہر مزاج اور فکر کا شخص اپنی سوچوں اور فکر کے زاویے سے اشعار سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ گویا طرب احمد صدیقی آج کا شاعر ہے۔ان کے شاگردو ںکی ایک بڑی تعداد پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہے۔ پروفیسر امین طرب صدیقی کی اولاد میں سے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ بدقسمتی سے دو سال پہلے ان کا بیٹا فیصل بھی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔ ان کی بیٹیاں جہلم میں مختلف تعلیمی اداروں میں درس و تدریس سے منسلک ہیں اور اپنے باپ کی ادبی ورثہ کو عوام الناس میں پھیلانے کیلئے تگ و دو کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں