173

پنجاب آنے والے مہاجر پرندوں کی تعداد میں 69 فیصد کمی

خوراک کے حصول کے لئے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے پاکستان آنیوالے مہاجرپرندوں کی واپسی شروع جاری ہے، گزشتہ برس اکتوبر میں سائبیریا سے آنے والے پرندے 5 ماہ کا عرصہ پنجاب سمیت ملک کی دیگر قدرتی آبی گزرگاہوں،ڈیموں اورجھیلوں میں گزارنے کے بعد واپس لوٹ رہے ہیں تاہم تشویش ناک بات یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی،آبی آلودگی اوربڑھتے ہوئے شکارکی وجہ سے ان مہمان پرندوں کی تعداد خاصی کم ہوتی جارہی ہے۔
بدلتی رتوں کے سفیر مہاجر پرندے غول در غول واپس اپنے آبائی علاقوں روس،سائبیریا اور شمال وسطی ایشیائی ریاستوں کے انتہائی سرد علاقوں کی طرف لوٹ رہے ہیں، ان پرندوں میں تلور، کونج، بھگوش، چارو، چیکلو، لال سر، بنارو، چھوٹی بطخیں اور دوسرے بے شمار پرندے شامل ہیں۔ یہ دلکش پرندے رامسر سائٹس پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے جہاں سے اب یہ واپس جارہے ہیں، رامسر سائٹس ایسے آبی علاقوں کو کہتے ہیں جہاں ایک وقت میں 20 ہزار یا اس سے زائد مہاجر پرندے قیام کرتے ہوں۔ پاکستان میں مہاجر پرندوں کی 20 موسمی آماجگاہیں موجود ہیں جن میں سے سندھ میں 10، خیبر پختونخوا میں 2، پنجاب میں 3 جب کہ بلوچستان میں 5 ہیں۔
پنجاب وائلڈلائف کے اعزازی گیم وارڈن بدرمنیر نے بتایا کہ پنجاب کے ان تمام مقامات کو جہاں مہاجر آبی پرندے موسم سرما میں آکر بسیرا کرتے ہیں پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت وائلڈ لائف سینکچوری قرار دے رکھا ہے جہاں نہ صرف ہر قسم کا شکار ممنوع ہے بلکہ ایسے علاقوں میں کسی قسم کی کھیتی باڑی ، تعمیرات ودیگر کارروائیوں جن سے یہاں نباتات اور حیوانات اور قدرتی مساکن کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو، کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ پاکستان آنے والے مہاجر پرندے جو فضائی راستہ اختیار کرتے ہیں اسے انڈس فلائی وے یا گرین روٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا عالمی نام انٹرنیشنل مائیگریشن روٹ نمبر 4 ہے۔ پاکستان میں مجموعی طورپر پرندوں کی 668 اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ مہاجر پرندوں کی 380 اقسام پاکستان آتی ہیں جن میں نمایاں تلور، عقاب، مختلف طرح کی چھوٹی بڑی مرغابیاں اور بطخیں، کونج، ہنس، نیل سر، سرخاب، مگ اور دیگر آبی پرندے شامل ہیں۔ پاکستان سے گزر کر بعض اقسام کے مہاجر پرندے انڈیا اور سری لنکا تک بھی جاتے ہیں
پنجاب وائلڈلائف حکام کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 10لاکھ مہاجرپرندے آتے ہیں تاہم گزشتہ چند برسوں میں ان کی تعداد بتدریج کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔ مہاجر پرندوں کی آمد میں کمی کی بڑی وجہ ان کا شکار، بڑھتی ہوئی فضائی اورزمینی آلودگی ہے جس سے ان کی خوارک بھی زہریلی ہو چکی ہے۔ پنجاب وائلڈلائف ہرسال ان مہاجرپرندوں کا وسط سرمامیں سروے کرتاہے جس میں پنجاب وائلڈلائف سروے ڈیپارٹمنٹ ،ڈبلیوڈبلیوایف سمیت دیگر این جی اوز اوربین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔
پنجاب وائلڈلائف سروے ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق ان کے پاس انتہائی محدووسائل ہیں جس کی وجہ سے ان مہمان پرندوں کا درست سروے نہیں ہوپاتاہے۔تاہم یہ بات طے ہے کہ ان کی تعداد ہرسال بتدریج کم ہورہی ہے، برڈلائف انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 30 برس کے دوران مہاجر پرندوں کی آبادی میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور ان میں سے بہت سے پرندے اب معدومی کا شکار ہیں۔ دنیا کے 90 فیصد سے زائد مہاجر پرندے انسانی سرگرمیوں کے باعث غیر محفوظ صورتحال کا شکار ہیں۔
پنجاب وائلڈلائف ذرائع کے مطابق پنجاب کے مختلف آبی گزرگاہوں پرکئے گئے سروے کے دوران مہاجرپرندوں کی تعداد کا جوتخمینہ لگایاگیا اس کے مطابق ان کی تعدادکم ہوتی جارہی ہے۔ مڈونٹرسروے کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس کے سروے کے دوران ان پرندوں کی تعدادکا تخمینہ 80 ہزار لگایا گیا ہے، 2019 میں مہاجرپرندوں کی تعداد ایک لاکھ 11 ہزار402 تھی، 2018 کے سروے نتائج کے مطابق 80 ہزار 11 پرندے ریکارڈکئے گئے ،2017 کے نتائج معلوم نہیں ہوسکے تاہم 2016 کے سروے میں مہاجرپرندوں کی تعداد 2 لاکھ 51 ہزار تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں