121

پنجاب میں بلدیاتی الیکشن جیتنا پی ٹی آئی کیلیے بڑا چیلنج

پنجاب اسمبلی سے نئے بلدیاتی نظام کا قانون منظورکرانے والی تحریک انصاف تنظیمی طور پر بلدیاتی الیکشن جیتنے کیلیے پراعتماد اور تیار دکھائی نہیں دے رہی ہے، ملکی تاریخ کی سنگین ترین معاشی صورت حال، غیرمعمولی مہنگائی، بند اور محدود ہوتے چھوٹے کاروبار سمیت صوبائی حکومت کی گورننس پر شدید تنقید کی موجودگی میں بلدیاتی الیکشن جیتنا تحریک انصاف کیلیے بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
بالخصوص ن لیگ کے زیراثر اضلاع سب سے مشکل ہدف ثابت ہوںگے، تحریک انصاف کی قیادت نے پارٹی رہنماؤں کو آئندہ بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں شروع کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن بلدیاتی الیکشن کیلیے امیدواروں کے چناؤ، لائحہ عمل کی تیاری کیلیے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔
تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اس امید پر آئندہ بلدیاتی الیکشن جیتنے کیلیے پر عزم ہے کہ عدالتوں سے کرپشن مقدمات میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت کے خلاف جیسے جیسے سخت فیصلے آئیںگے اس وجہ سے عوام میں دونوں پارٹیوں کی مقبولیت کم ہوگی جس کا فائدہ بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کو ہوگا، تحریک انصاف کے ضلعی و تحصیل سطح کے رہنماؤں اور کارکنوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اس وقت سخت معاشی صورت حال اور مہنگائی کی وجہ سے عوام میں تحریک انصاف کی مقبولیت زوال کا شکار ہے، گلی محلوں میں تحریک انصاف کے متحرک رہنما بھی اس وقت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس جواب دینے کو کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔
شہری سطح پر کام کرنیوالے محکموں میں بھی تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں کی سنوائی نہیں ہورہی ہے جس وجہ سے ووٹر انھیں ’’غیر موثر‘‘ سیاسی رہنما سمجھتے ہیں، تحریک انصاف کے اہم رہنما نے ایکسپریس کو بتایا کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بنے ہوئے9ماہ ہوگئے ہیں لیکن حکومتی عہدے داروں نے ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی رہنماؤں کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے جس کی وجہ سے حلقوں میں ووٹرز کے روز مرہ مسائل کے حل کیلیے بھی شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
تمام کاروبار شدید مندی کا شکار ہیں، بے روزگاری اور مہنگائی بڑھ رہی ہے ایسے حالات میں ہم کس طرح سے بلدیاتی الیکشن جیت سکتے ہیں۔ ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے کہاہے کہ تحریک انصاف نے ابھی بلدیاتی الیکشن کی باضابطہ تیاریوں کا آغاز نہیں کیا ہے کیونکہ ہماری سب سے اولین ترجیح پہلے تنظیم سازی کرنا ہے امید ہے کہ عیدالفطر سے قبل ہم مرکزی اور صوبائی سطح کی تنظیمیں تشکیل دے دیں گے، قربانی دینے والے کارکنوں کو ہی بلدیاتی الیکشن میں امیدوار بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں