197

پنجاب میں چڑیا گھروں اورپارکس کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پرمکمل کرنے کا فیصلہ

پنجاب میں چڑیا گھروں اورپارکوں میں برسوں سے التوا کا شکار ترقیاتی منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب میں جنگلی حیات اور فشریز کی علیحدہ وزارت بننے کے بعد صوبائی وزیر ملک اسد کھوکھر کافی متحرک ہوگئے ہیں، ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں وائلڈلائف کنزرویشن، چڑیا گھروں اور وائلڈلائف پارکوں میں کئی منصوبے شروع کیے گئے لیکن وہ مکمل نہ ہوسکے، فنڈز کاعدم حصول محکمے کی نااہلی ہے، ان کی پہلی ترجیح نامکمل منصوبوں کومکمل کرنا ہے، وائلڈ لائف پارک جلومیں جلوسفاری کا منصوبہ بھی جلد مکمل کیا جائے گا۔ جلو سفاری منصوبے کے تحت یہاں شترمرغ، زرافہ، لنگور، گینڈا،دریائی گھوڑا، ریچھ، چمپینزی، ببون بندر، چیتا، شیر، ٹائیگر لائے جائیں گے جب کہ یہاں وائلڈلائف میوزیم اور ٹرام چلائے جانے کا بھی منصوبہ ہے۔ رواں سال اپریل میں لائن انکلوژرکا افتتاح کردیا جائے گا۔ یہ کام 80 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ اس منصوبے پرکام کرنیوالے کنٹریکٹرکو160 ملین روپے کی ادائیگی ہوچکی ہے جبکہ 245 ملین روپے کی ادائیگی ہونا باقی ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رائیونڈ روڈ پرواقع لاہور سفاری میں نائٹ سفاری کے نامکمل منصوبے کا آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈی جی خان میں 500 ایکڑ پر مشتمل سفاری کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے، وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر یہ سفاری بھی رواں سال مکمل ہونے اور سیاحوں کے لیے کھولے جانے کا امکان ہے، جلوسفاری میں مختلف اقسام کے پودے لگانے کا بھی فیصلہ ہوا یے،ایک کنال رقبے پر مختلف اقسام کے پھولدارپودوں کی پنیری تیارکی جائے گی اور یہ پودے 86 ایکڑ رقبے پر مشتمل جلوسفاری میں لگائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے نئے مالی بھی بھرتی کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب جلوسفاری کی جلد تکمیل میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں اوراس حوالے سے فنڈز کی فراہمی کو بھی ہرصورت یقینی بنایا جائیگا، منصوبے پرکام کرنیوالے ٹھیکدار کا کہنا ہے منصوبے میں تاخیرکی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی ہے، حکومت فنڈزجاری کرے تو آئندہ سال جون تک جلوسفاری مکمل ہوجائے گی۔
صوبائی وزیرجنگلی حیات پنجاب ملک اسدکھوکھرنے بتایا کہ ماضی کے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کہ وجہ فنڈزکی عدم دستیابی ہے اورمحکمے کی سستی ہے۔ وہ بھی نئے آئے ہیں اورمحکمے کے ڈی جی بھی نئے ہیں جبکہ اب وائلڈلائف اور فشریز کو محکمہ جنگلات سے الگ کردیا گیاہے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ تمام نامکمل منصوبے مکمل کرلئے جائیں۔
لاہور جلو سفاری کا منصوبہ جولائی 2016 میں شروع کیاگیاتھا جس کی لاگت کا تخمینہ 398.6 ملین روپے ہیں یہ منصوبہ جون 2019 میں مکمل ہونا تھا تاہم ابھی تک کام نامکمل ہے جس کی بڑی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی ہے۔ اسی طرح رائیونڈ روڈ پر واقع سفاری پارک میں نائٹ سفاری شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم 2 سال سے یہ منصوبہ بھی التوا کا شکار ہے، مالی سال 20-2019 میں سفاری پارک میں ترقیاتی کاموں کے لئے 21 ملین روپے رکھے گئے ہیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رقم پرانی ادائیگیوں کے لئے ہے ،رواں سال سفاری پارک میں کوئی بھی نئی ترقیاتی سکیم شامل نہیں کی گئی ہے۔ لاہورکے قریب دریائے راوی کنارے کرول جنگل میں بھی عالمی معیارکی لائن سفاری کے قیام کا اعلان کیاگیاتھا مگراس پرابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے تاہم ڈی جی خان میں پرانے سٹرکچرکوبحال کرکے ڈی جی خان چڑیاگھرکوہی لائن سفاری میں تبدیل کردیاگیا۔
تفریحی منصوبے بروقت مکمل نہ ہونے پرشہری بھی پریشان ہیں، جلوپارک میں تفریح کے لئے آنیوالی ایک فیملی میں شامل خاتون عاصمہ آفتاب نے بتایا کہ انہیں یہ خوشی ہے کہ اب شیر،چیتااوردیگرجانوردیکھے جاسکیں گے وہیں اس بات کا دکھ بھی ہے کہ اتنے سالوں تک یہاں کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ جلوپارک لاہورکا سب سے بڑاپارک ہے لیکن یہاں بچوں اورسیاحوں کی دلچسپی کے کوئی جانورنہیں ہیں۔یہاں مختلف اقسام کے ہرن اورشترمرغ ہی دکھائی دیتے تھے جبکہ فیزنٹ اورموروں کی چنداقسام تھیں،ایک شہری راناخرم شہزادنے بتایا کہ یہ پارک اس علاقے کی واحدتفریح گاہ ہے لیکن یہاں درختوں کے علاوہ دلچسپی کی کوئی چیزنظرنہیں آتی تھی،گزشتہ چندبرسوں میں یہاں کافی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے لیکن اب بھی یہاں جانوروں اورپرندوں کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوچاہیے کہ یہاں شیر، چیتے، ہاتھی، اونٹ، چمپینزی سمیت دیگر جانور اور پرندے رکھے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں