136

پولیو ٹیمز پر حملے، ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم معطل

سیکیورٹی کو لاحق سنگین خطرات اور انسدادِ پولیو مہم کی ٹیمز پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پولیو مہم ’غیر معینہ مدت‘ تک کے لیے معطل کردی۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے بہتر معیار کو یقینی بنانے کے لیے مہم کے بعد لیے جانے والے جائزے (ایل اے کیو ایس) کو بھی معطل کردیا۔
قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) برائے پولیو اسلام آباد کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں ملک بھر میں 2 لاکھ 70 ہزار پولیو رضاکاروں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام صوبوں کے لیے انتباہ جاری کردیا جس میں انہیں انسدادِ پولیو مہم روک دینے کی ہدایت کی گئی۔
خیال رہے کہ ملک بھر کے تمام اضلاع میں انسدادِ پولیو کی حالیہ مہم کا آغاز 22 اپریل کو کیا گیا تھا جس کا آخری دن جمعہ تھا۔
ای او سی کی جانب سے جاری انتباہی بیان کے مطابق ’پشاور میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنان کے لیے غیر یقینی اور خوفزدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور ہمیں اس پروگرام کو مزید نقصان سے بچانے کی ضرورت ہے‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی تکنیکی ٹیم اور عالمی انسدادِ پولیو مہم (ایس پی ای آئی) کے شراکت داروں نے متفقہ طور پر فوری طور پر اپریل میں جاری قومی مہم کے اختتامی روز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ’اب مزید کسی بھی علاقے میں کوئی ویکسینیشن یا اس قسم کی سرگرمی نہیں کی جائے گی‘۔
اس ضمن میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نئی طریقہ کار کے تحت ایل کیو اے ایس کا استعمال کر رہا ہے تا کہ اعداد و شمار کے ذریعے انسدادِ پولیو مہم کے پھیلاؤ کی حیثیت اور کمزویوں کی نشاندہی کی جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پولیو ٹیمز پر ہونے والے حملوں کے باعث انسدادِ پولیو مہم کو سخت دھچکا لگا ہے جس کے باعث وفاقی حکومت ایل کیو اے ایس کی تمام سرگرمیاں بھی روکنے پر مجبور ہوگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں