43

چائے سگریٹ کی عیاشی اور زبوں حال زراعت

کون کہتا ہے پاکستان غریب ملک ہے۔ گزشتہ 5 ماہ میں ہم 38 ارب روپے کی تو صرف چائے پی گئے ہیں۔ یہی نہیں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ہمارا چائے، سگریٹ کا سالانہ خرچہ دو سو ارب روپے سے زائد ہے، جو زیادہ تر کینیا، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور انڈونیشیا سے منگوائے جاتے ہیں۔ خوردنی تیل ہماری روزمرہ ضرورت کا اہم جزو ہے جو ہم ہر سال 2 کھرب 85 ارب روپے خرچ کرکے باہر سے منگواتے ہیں۔ یہی نہیں، ہم دالوں کی مد میں سالانہ 1 کھرب 54 ارب روپے خرچ کرتے ہیں جو زیادہ تر آسٹریلیا اور کینیڈا سے منگوائی جاتی ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ ہمارے زرعی ملک میں یہ فصلیں پیدا نہیں ہوسکتیں، بلکہ پاکستان کی آب و ہوا اور زمین ان فصلوں کی پیداوار کےلیے بہترین ہے۔ لیکن حکومت کی ناقص زرعی پالیسیوں اور کسانوں کی عدم دلچسپی کے باعث ہمیں یہ فصلیں باہر سے منگوانی پڑ رہی ہیں۔ اہم بات یہ کہ اگر ہم صرف ان چار فصلوں میں ہی خود کفیل ہوجائیں تو سالانہ 47 ارب ڈالرز بچا سکتے ہیں۔ اگر ملکی معیشت پر نظر ڈالیں تو ہمارا تجارتی خسارہ 33 ارب 84 کروڑ ڈالرز ہے، جسے پورا کرنے کےلیے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے چند فصلوں میں خود کفیل ہونے سے باآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں عرصہ دراز سے گندم اور کپاس ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ ہمارے لیے زرِمبادلہ کا بھی باعث رہی ہیں۔ لیکن گزشتہ کچھ سال سے گندم کے مصنوعی بحران کی وجہ سے ہمیں گندم روس سے منگوانی پڑ رہی ہے اور کپاس کی پیداوار بھی گیارہ ملین گانٹھوں سے صرف چھ ملین گانٹھوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں کسانوں کو تیل دار اجناس، دالیں اور تمباکو جیسی منافع بخش فصلیں لگانے کی طرف راغب کرنا چاہیے تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ پاکستان تمباکو کی فی ایکڑ پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اسی طرح پاکستان میں اعلیٰ معیار کی دالیں اور خوردنی تیل پیدا کرنے کا بھی پوٹینشل موجود ہے۔ جہاں تک چائے کا تعلق ہے تو مانسہرہ، سوات اور ایبٹ آباد جیسے علاقوں میں 20 سال قبل چائے کی کاشت کے کامیاب تجربات کیے گئے، لیکن حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث اس پراجیکٹ کو عام کاشتکاروں تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ حکومت نے تیل دار اجناس کے فروغ کےلیے متعدد پیکیجز کا اعلان کیا ہے، لیکن اس کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ چھوٹے کاشتکار اس سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ بھارت میں 23 فصلوں پر حکومت کی طرف سے سپورٹ پرائس دی جاتی ہے جس کی وجہ سے کسان ان فصلوں کو لگانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ ہماری حکومت کو بھی چاہیے کہ تیل دار اجناس، دالیں، چائے اور تمباکو جیسی فصلوں پر سپورٹ پرائس کا تعین کرے تاکہ کسان ان فصلوں کی طرف بلاخوف متوجہ ہوسکے۔
ہر نئی حکومت آتے ہی ’’معیشت تباہی کے دہانے‘‘ پر ہونے کا رونا روتی ہے۔ قرضے لیتی ہے، ترقیاتی پیکیجز کی آڑ میں کاروباری حضرات اور صنعتکاروں کو سہولیات دیتی ہے لیکن زرعی شعبہ نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اس سارے کھیل میں سیاستدانوں کے منظورِ نظر خاص طبقہ تو امیر سے امیر ترین ہوتا جاتا ہے لیکن ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔ عمران خان نے جب اپنی پہلی تقریر میں زرعی پالیسیوں کی بہتری کا عندیہ دیا تو مجھ سمیت کروڑوں کسانوں اور زراعت کے طلبا کو امید ہوچلی تھی کہ ستر سال سے نظرانداز کیے گئے زرعی شعبے کا اب ترقی کا سفر شروع ہوگا۔ لیکن افسوس نئی حکومت کی زراعت سے عدم دلچسپی کے باعث یہ خوش فہمی ملیامیٹ ہوتی معلوم ہورہی ہے۔
اگر آپ کینسر کا علاج کرنے کے بجائے اپنے سر درد کےلیے فکرمند ہیں تو آپ کو دردناک انجام سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ بالکل اسی طرح اگر ہم زرعی ملک میں زرعی مسائل کا علاج نہیں کرتے تو ہماری صنعتیں، کاروبار اور معیشت کبھی بھی مستحکم نہیں ہوسکتیں۔ نئی حکومت کے مطابق ان کی پہلی ترجیح قومی معیشت کی مضبوطی ہے لیکن انہیں سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی معیشت زراعت کی ترقی سے مشروط ہے۔ ہمیں آج نہیں تو کل زرعی انقلاب لانا ہوگا، ورنہ ہماری صنعتیں تو اجڑ ہی چکی ہیں، خدانخواستہ زراعت بھی قصہ پارینہ بن جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں