222

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد مسترد

ایوان بالا میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے تحت ہوئی.
ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محمد علی سیف پریذائیڈنگ آفیسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پریذائیڈنگ افسر کا کہنا تھا ووٹنگ خفیہ رائے دہی سے ہوگی، ہر رکن کو بیلٹ پیپر دیا جائے گا، ہر ممبر اپنی مرضی کے باکس پر مہر لگائے گا، مہر کے بعد بیلٹ پیپر کو باکس میں ڈال دیا جائے گا، کسی بھی لکھائی کی صورت میں بیلٹ پیپر مسترد تصور ہوگا۔
پریذائیڈنگ افسر نے مزید کہا بیلٹ پیپر کسی کو دکھانے کی اجازت نہیں ہوگی، بوتھ میں ٹیلی فون لے جانے کی اجازت نہیں، ووٹنگ میرے دائیں جانب بوتھ میں ہوگی، ووٹنگ سے پہلے ممبران کو خالی بیلٹ باکس دکھایا جائے گا، بیلٹ باکس دکھانے کے بعد سیل کر دیا جائے گا، انتخابی عمل کے دوران ارکان ایوان میں رہیں، انتخابی عمل کے دوران ایوان کے تمام دروازے بند ہوں گے۔
راجہ ظفرالحق نے صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی اجازت پر تحریک پیش کی، تحریک کی حمایت میں 64 ارکان کھڑے ہوئے۔ اپوزیشن کی طرف سے جاوید عباسی اور حکومتی بنچز کی طرف سے نعمان وزیر کو پولنگ ایجنٹس نامزد کیا گیا۔ ووٹنگ کیلئے سینیٹرز کا حروف تہجی کے مطابق نام پکارا گیا۔ حافظ عبدالکریم نے اپنا پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔
104 ارکان پر مشتمل ایوان میں 100 ممبرز موجود رہے، جماعت اسلامی کے 2 ارکان غیر حاضر تھے، مسلم لیگ (ن) کے اسحاق ڈار نے حلف نہیں اٹھایا جبکہ ن لیگ کے چودھری تنویر علالت کے باعث بیرون ملک ہیں۔ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد 13 سینیٹرز آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے۔ مشاہد حسین سید، صابر شاہ، محمود الحسن، رانا مقبول، اسد اشرف، آصف کرمانی، اسد جونیجو، مصدق ملک، شاہین خالد بٹ، نزہت صادق، کامران مائیکل، شمیم آفریدی، حافظ عبد الکریم آزاد حیثیت سے جیتے۔
ادھر قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے حکومتی عشائیہ میں شرکت پر سینیٹر کلثوم پروین کی بات سننے سے انکار کر دیا۔ سینیٹر کلثوم پروین نے 23 جولائی کے حکومتی عشائیہ میں شرکت پر وضاحت دینا چاہی تو شہباز شریف نے بات سننے سے ہی انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا پارٹی لائن سے انحراف قابل قبول نہیں، جو کہنا ہے وہ وضاحت ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے رکھیں۔ شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنما سینیٹر کلثوم پروین کو پہلے ہی استعفی دینے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
پارٹی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو 65 ارکان اپوزیشن اتحاد میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ن لیگ کے 30 سینیٹرز میں سے 17 پارٹی ٹکٹس پر منتخب ہوئے جبکہ 13 آزاد ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے 21 سینیٹرز میں سے ایک آزاد ہے۔ نیشنل پارٹی کے 5، جے یو آئی ف کے 4 ، اے این پی کا ایک اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 4 سینیٹرز ہیں جن میں سے دو آزاد ہیں۔
حکومتی اتحاد میں مجموعی طور پر سینیٹرز کی تعداد 36 ہے جن میں تحریک انصاف کے 14، بلوچستان عوامی پارٹی کے 8، سابق فاٹا کے 7 ، ایم کیو ایم کے 5 جبکہ مسلم لیگ فنکشنل اور بی این پی مینگل کا ایک ایک ووٹ شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں