19

چیف جسٹس آف پاکستان نے حکومت کے بارے کیا کہا

سپریم کورٹ نے 10دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران کی تعیناتی اور کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیارکا فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے قراردیا کہ حکومت میں ملک چلانے کی صلاحیت ہے نہ اہلیت ،اداروں میں کوئی ہم آہنگی نہیں ،آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ہے ،مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ،چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجا زالاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صوبہ سندھ میں لوڈشیڈنگ سے متعلق انسانی حقوق کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا کے اقدامات پر جاری حکم امتناعی کو ختم کردیا اور نیپر ایکٹ کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیا،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی ملکی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے ، کراچی کے پاس دینے کیلئے اب کچھ نہیں، کراچی میں اربوں روپے جاری ہوتے ہیں لیکن خرچ کچھ نہیں ہوا، 4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی، لوکل گورنمنٹ والوں کو جتنے بھی پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کئے گئے ، آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے ، کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ان کے ملازم نظر نہیں آرہے ، شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے لیکن ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کریں گے ، وہ تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں، پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں، کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، کراچی والوں کے بیرون ملک اکائونٹ فعال ہوچکے ہیں،وفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر نہیں؟وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے ، وفاقی حکومت کیا کررہی ہے ؟ اس کی آخر رٹ کہاں ہے ، وفاقی حکومت ایسے پاکستان چلائے گی؟ عدالت نے کراچی میں بجلی کی فراہمی کے بارے پاور ڈویژن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے ریما رکس دئیے کہ پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی گئی، جس پاور ڈویژن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے ، کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں، ہم نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی لیکن رپورٹ میں مستقبل کا لکھ دیاگیا، کے الیکٹرک نے 2015 سے رقم جمع نہیں کرائی آپ لوگ ان کے ترلے کررہے ہیں، حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، حکومت کو بے بس کیا جارہا ہے ، حکومت کے الیکٹرک کی کلرک اور منشی بنی ہوئی ہے ۔اٹارنی جنرل نے پاور ڈویژن کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ واپس لینے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا تمام حکومتی ادارے کے الیکٹرک کی معاونت کیلئے ہیں، اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ، پاور ڈویژن کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے ۔چیف جسٹس نے پٹرول سکینڈل کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ملک میں پٹرول کا بڑا سکینڈل آیا،ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر آگئی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے کی انکوائری ہورہی ہے ،کمیشن بن گیا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا ،جسٹس اعجا زالاحسن نے کہا سانپ نکل گیا ہے اور آپ لکیر پیٹ رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ حکومتی معاملات سمجھ سے باہر ہیں،کے الیکٹرک کے مسائل حل کرنے کیلئے ون ونڈو آپریشن کیوں نہیں، آج کے الیکٹرک کے خصوصی اختیار کا معاملہ ختم ہی کر دیتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا ہم نے جس دن سے نوٹس لیا ہے شہر کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے ،شہر سے باقی سارا جوس نکال لیا ہے جو چند قطرے بچے ہیں وہ بھی نکال رہے ہیں،پاور ڈویژن والے لکیر کے فقیر ہیں،جواب تیار کرتے وقت اپنا دماغ تک استعمال نہیں کیا،سیکرٹری پاور ڈویژن آپ اپنی سمت درست کریں،اس وقت عوام کے فائدے کیلئے حکومت کے پاس کچھ نہیں،کراچی کا ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں شہری سکون سے رہ سکیں،پاور سیکٹر کے پاس کام کرنے کا دم نہیں، عدالت نے نیپرا سے کارروائی پر مبنی رپورٹ طلب کر لی،سپریم کورٹ نے 10دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران کی تعیناتی اور کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیارکا فیصلہ کرنے کا بھی حکم دیا،عدالت نے قرار دیا کہ اتھارٹی الیکٹرک پاور ایکٹ کے سیکشن 26پر عملدرآمد کیلئے کارروائی کر سکتی ہے ،اس ضمن میں اتھارٹی کو کسی بھی عدالت کی جانب سے نہیں روکا جائے گا،سپریم کورٹ نے صوبہ سندھ خصوصاً کراچی میں لوڈ شیڈنگ کیخلاف از خود نوٹس کیس پر سماعت چار ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں