194

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا لاہور میں نیشنل ہسپتال ڈیفنس کا دورہ

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ڈی ایچ اے لاہور L بلاک فیز 1 میں واقع نیشنل ہسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس دوران مختلف وارڈز کا معائنہ بھی کیا۔ شعبہ امراض دل کے سربراہ کو جھاڑ پلا دی اور کہا کہ آپ لوگوں کو پتہ نہیں کہ عدالت عظمیٰ نے سٹنٹ ڈالنے کی فیس ایک لاکھ مقر کر رکھی ہے جبکہ آپ مریضوں سے سوا دو لاکھ روپے وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ انجیوگرافی کی زیادہ فیس کیوں وصول کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر ہسپتال کے ڈائریکٹر ایڈمن سے استفسار کیا کہ مجھے وہ کمرہ بھی دکھاﺅ جس کا تم یومیہ 50ہزار کرایہ وصول کر رہے ہو۔ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ نے ہسپتال کا آڈٹ کروانے کا اور دودن کا ٹرن اوور پیش کرنے کا حکم صادر کیا اور مختلف علاج و معالجہ کی فراہم کی جانے والی سہولیات کی ریٹ لسٹ بھی فوری طو رپر طلب کی۔ چیف جسٹس نے چیف ایگزیکٹو ہیلتھ کیئر کمیشن کو ہسپتال انتظامیہ کےخلاف فوری تحقیقات کرنے نیز ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو اور مشہور فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کا نام ECL میں ڈالنے کا حکم بھی جاری کیااور کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اب کس طرح ملک سے باہر جاتے ہو۔ چیف جسٹس نے علاج و معالجہ کی سہولتوں کا جائزہ لیا اور انتظامیہ پر لاکھوں روپے وصول کرنے پر اظہار برہمی بھی کیا۔ چیف جسٹس نے مریضوں اور ان کے تیمار داروں سے بھی بات چیت کی اور کہا کہ کیوں ان چور لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے یہ لوگ تو تمہیں ایک پیسہ بھی معاف نہیں کریں گے۔ اس موقع پر لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غریب کیسے اس مہنگے ترین ہسپتال میں علاج کروا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں