134

چینی لڑکوں کےساتھ 1500 سے زائد پاکستانی لڑکیوں کی شادیوں کا انکشاف

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق اب تک 1500 چینی لڑکوں کی پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ شادیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
پاکستان میں چینی لڑکوں سے بھاری رقم کے عوض غریب گھرانے کی لڑکیوں سے شادیوں میں اضافے کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے ہوتا جارہا ہے، اور ایف آئی اے کی اب تک کی تحقیقات کے مطابق 1500 سے زائد لڑکیوں کی شادیاں چینی لڑکوں کے ساتھ ہوچکی ہیں۔
ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل نے روالپنڈی میں بڑی کارروائی کے دوران مزید 14 چینی باشندے گرفتار کرلئے، جو پاکستانی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر چین لے جاتے اور وہاں ان سے غیراخلاقی کام کروایا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق گرفتار کئے گئے چینی باشندوں کے قبضے سے 3 پاکستانی لڑکیاں بھی برآمد ہوئی ہیں جنہیں شادیوں کا جھانسہ دے کر چین اسمگل کیا جانا تھا، جب کہ پہلی مرتبہ چینی باشندوں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، چینی باشندوں کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا گیا ہے اور ان سے مزید انکشافات کی توقع ہے۔
دوسری جانب ایف آئی اے لاہور نے بھی ڈی ایچ اے اور ڈیوائن گارڈن میں کارروائی کرتے ہوئے ایک چینی اور 3 پاکستانی خواتین کو گرفتار کیا ہے، ایف آئی اے ذرائع کے مطابق گرفتار خواتین چینی لڑکوں کے ساتھ شادی کرانے میں مالی معاملات سمیت دیگر معاملات طے کرتی تھی، ایف آئی نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ایف ائی اے زرائع کے مطابق اب تک کی گرفتاریوں اور تحقیقات میں کئی انکشافات سامنے آرہے ہیں، گرفتار ملزمان کے مطابق وہ لوگوں کو پیسوں کا لالچ دے کر شادی کراتے ہیں، بہت سی لڑکیوں کی شادی ہو گئی اور وہ چین بھی چلی گئی ہیں، لیکن ان کے بارے کوئی اطلاعات نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔
تحقیقات میں کچھ لڑکیوں نے بتایا ہے کہ ایک شادی کے بعد ان کی 2 یا 3 مختلف چینی لڑکوں کے ساتھ شادیاں کرادی گئیں اور شکایت کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی، اور اب تک تقریباً 1500 سے زائد پاکستانی لڑکیوں کی شادیاں ہوچکی ہیں۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق گرفتار کئے گئے چینی باشندوں کے قبضے سے 3 پاکستانی لڑکیاں بھی برآمد ہوئی ہیں جنہیں شادیوں کا جھانسہ دے کر چین اسمگل کیا جانا تھا، جب کہ پہلی مرتبہ چینی باشندوں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، چینی باشندوں کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا گیا ہے اور ان سے مزید انکشافات کی توقع ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے جمیل میو کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں یہ ایک دو نہیں بہت سے گروہ ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں اور شادیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، ریکارڈ قبضے میں لے کر گرفتار افراد اور خواتین سے تحقیقات جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں