234

ڈیم نہ بنا اورمتاثرین کا مسئلہ حل نہ ہوا تواحتجاج کروں گا، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ ڈیم نہ بنا اور متاثرین کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کروں گا۔
سپریم کورٹ میں زلزلہ متاثرین امداد کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں ہوئی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لٹے پٹے لوگوں کی امداد پوری دنیا سے کی گئی، دینے والے ہاتھ پل بھرمیں لینے والے بن گئے، متاثرین پرایٹم بم نہیں گرا تھا قدرتی آفت آئی تھی، امدادی رقم حکومت کے پاس امانت تھی لیکن حکومت نے متاثرین کی امانت میں خیانت کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں چارگھنٹے کا سفرکرکے جا سکتا ہوں تو وزیر اعظم کیوں نہیں، ٹین کی چھتوں میں آج کی سردی میں رہنا ممکن نہیں، متاثرہ علاقوں میں اسکول اور اسپتال بھی نہیں، وزیراعظم کوسیشن جج کی رپورٹ بھجوائی لیکن کچھ نہ ہوا، وفاقی کابینہ خود بیٹھ کر اس معاملے کو دیکھے، چاہتے ہیں کہ لوگوں کے مسائل حل ہوں اور ڈیم نہ بنا اور متاثرین کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کروں گا۔
درخواست گزارنے سماعت کے دوران کہا کہ وزیراعظم خود شوگراں گئے لیکن بالاکوٹ متاثرین کے پاس نہیں آئے،وزیراعظم کے دل میں درد ہوتا تووہ متاثرین کے پاس آتے، ہماری بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام اورملتان منتقل ہونے والی امدادی رقم واپس کی جائے۔
ڈی جی ایرا نے کہا کہ ایراء نے 10 ہزارمنصوبے مکمل کئے جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ کوئی ایک غسل خانہ بھی بنایا ہے تو بتا دیں، کے پی کے حکومت خود پر بہت فخرکرتی ہے لیکن کے پی کے حکومت نے متاثرین کے لئے کچھ نہیں کیا، سرد موسم میں برفباری میں لوگ رہ رہے ہیں، متاثرین کی بحالی کا حکم دینا کیا اختیارسے تجاوز ہے، زمین کا تنازع بھی میرے دورے کے بعد حل ہوا، مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ جوڈیشل ایکٹوسٹ ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ متاثرین کا پیسہ میٹرواور بی آئی ایس پی پرخرچ ہوا، سڑک بنی نہیں، اسکول اسپتال بنا نہیں، کیا یہ منصوبہ زیر زمین بنائے گئے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو معاملہ کا علم ہی نہیں تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جس صوبے نے سب سے زیادہ پیار کیا اسکا ہی وزیراعظم کو پتہ نہیں، ہمیں وزیراعظم کا جواب چاہیے۔
عدالت نے چیئرمین ایرالیفٹیننٹ جنرل عمرحیات کو طلب کرتے ہوئے مکمل شدہ منصوبوں کی تفصیلات سمیت بی ایس پی اورمیڑومنصوبوں کیلئے امدادی رقم منتقلی کی تفصیلات بھی طلب کرلیں جب کہ فنڈز کی فراہمی کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت بتائے متاثرین کے لئے کتنی امداد آئی اور کہاں گئی، آگاہ کیا جائے حکومت کا متاثرین کی بحالی کے لئے کیا منصوبہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں