151

کار حادثے کے بعد عام شخص بہترین مصور بن گیا

بعض لوگ حادثاتی طور پر کچھ سے کچھ بن جاتے ہیں لیکن ایک امریکی شخص کار کے شدید حادثے کے بعد بہترین مصور اور پینٹر بن چکا ہے اور اس نے زندگی میں کبھی سنجیدہ مصوری نہیں کی۔
42 سالہ اسکاٹ میل کا تعلق نارتھ کیرولینا کے علاقے ویلنگٹن سے تھا، وہ 2015ء میں اپنی کار میں بیٹھے ایک چوراہے کو عبور کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ مخالف سمت سے آنے والی کار کی ٹکر سے شدید زخمی ہوئے جس کے باعث ان کے سر پر گہری چوٹیں آئیں۔
ہوش آنے پر وہ غم اور مایوسی کے شکار ہوئے کیونکہ کئی مرتبہ انہیں محسوس ہوا کہ اب ان کی شخصیت بدل چکی ہے۔ پھر اچانک ان میں جنون پیدا ہوا کہ وہ مصوری اور پینٹنگ کریں حالانکہ وہ پہلے اس سے وابستہ نہ تھے۔ حادثے سے قبل وہ کاروں کے شوروم میں ملازم تھے۔
رنگ اور برش خریدنے کے بعد انہوں نے کینوس پر شاندار تصاویر بنانا شروع کیں جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ ماہرین نے ان کا جائزہ لے کر کہا ہے کہ وہ ایک نایاب دماغی کیفیت کے شکار ہیں جسے ’سیونٹ سنڈروم‘ کہا جاتا ہے اور اب تک پوری دنیا میں صرف ایسے 33 مریض ہی ملے ہیں۔
سیونٹ سنڈروم کے شکار ہونے والے افراد اچانک کوئی نیا علم یا ہنرحاصل کرتے ہیں۔ اس سے قبل وہ زندگی میں بہت پیسہ کمانا چاہتے تھے لیکن اب اسکاٹ کہتے ہیں کہ وہ میری زندگی تھی جس کی مجھے پروا نہیں، مجھے اپنے دوستوں کی کوئی پروا نہیں اور نہ ہی کسی کی فکر ہے۔
مصوری کا سامان خریدنے کے بعد انہوں نے سوچا کہ وہ کبھی مصور نہیں رہے تاہم انہوں نے مصوری شروع کی تو ازخود ساری پینٹنگ بہتر سے بہترین بنتی رہی۔ اب وہ سیکڑوں تصاویر بناچکے ہیں جس سے لگتا ہے کہ ان کے اندر ایک خوابیدہ پینٹر بیدار ہوچکا ہے۔
صرف اسی پر بس نہیں وہ کہتے ہیں کہ پینٹنگ سے ان کا وجود مکمل ہوگیا ہے۔ اب وہ کار کے شوروم پر بھی کام نہیں کرنا چاہتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں