37

کراچی لوڈ شیڈنگ کیس؛ نجی کمپنیاں حکومتی غلطیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کراچی لوڈ شیڈنگ کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ نجی کمپنیاں حکومتی غلطیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کراچی لوڈ شیڈنگ کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں بجلی کا مسئلہ کتنا حل ہوا؟، آپ نے آج بجلی کی قیمت بھی بڑھا دی، تمام لوگ آپس میں ملے ہوئے ہیں، آپ کی آپس میں کوئی کوآرڈینیشن نہیں، نیپرا اور پاور ڈویژن والے، پی ٹی ڈی سی اور این ٹی ڈی سی کے محکمے کیا کر رہے ہیں، نجی کمپنیاں حکومت کی غلطیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، نہ حکومتی اداروں میں صلاحیت ہے، نہ کچھ کرنا ہے نہ کچھ کرتے ہیں، لوگوں کو کیا سہولت فراہم کررہے ہیں، آپ کا نوکری پر رہنے کا کیا جواز ہے آپ کی نوکریاں فارغ کر دیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو رپورٹس جمع کروائی گئی ہم نے ساری پڑھ لیں، گراؤنڈ پر صورتحال تو ویسے کی ویسی ہے، نہ وفاقی حکومت کچھ رہی ہے نہ ہی بجلی والے کچھ کر رہے ہیں، وفاق نے اپنی ذمہ داری ادا کرنی تھی جو نہیں کر رہی، آپ لوگوں میں اہلیت نہیں اسلیے آپ کو ہائی جیک کیا ہوا ہے، عوام بھی آپ کے سامنے ہائی جیک ہوئے پڑے ہیں، آپ کے عہدے پر رہنے سے کسی پاکستانی کو رتی بھر کا فائدہ ہورہا ہے، تمام اداروں کو اربوں روپے ادا کیے جارہے ہیں، وہ عوام کی سہولت کے لیے کیا کر رہے ہیں۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ کراچی میں بجلی کی کیپسٹی کیوں نہیں بڑھاتے؟، کے الیکٹرک والے کہتے ہیں 900 میگاواٹ کیپسٹی بڑھانے کی درخواست نیپرا کو دی ہوئی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے ٹریبونل بنانا تھا ابھی تک نہیں بنا؟، 900 میگاواٹ کو سسٹم میں شامل کرنے کے لیے نیپرا نے کیا کیا؟۔
چیرمین نیپرا نے کہا کہ کے الیکٹرک نے خود ہی اسکے خلاف عدالت سے حکم امتناع لیا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کے الیکٹرک کے ایم ڈی ادھر ہی ہیں آپ کا کیا ارادہ ہے؟، کراچی کو کب بجلی دیں گے، سی او کے الیکٹرک کدھر ہیں، سی او صاحب اپ ابھی تک عہدہ پر ہی ہیں، کے الیکٹرک کا اصل مالک کون ہے۔
وکیل کے الیکٹرک علی ظفر نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے 9 ڈائریکٹرز ہیں، یہ سعودی اور کویتی بزنس گروپس کا اشتراک ہے، دونوں گروپس میں 400 ملین انویسٹ کیا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بالآخر ان گروپس کے پیچھے مزید گروپس ہوں گے، آخر میں یہ کمپنی ممبئی میں لینڈ کرے گی۔
وکیل علی ظفر نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کے الیکٹرک کے تمام لوگوں کی ایجنسیوں نے کلیرنس دی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ ایم ڈی کے الیکٹرک کو جیل بھیج کر بھاری جرمانہ کردیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سابق سی ای او کے الیکٹرک تابش گوہر کو معاون خصوصی لگایا ہے، ایسے وقت میں جب کے الیکٹرک کا معاملہ عدالت زیر سماعت ہے۔
وفاقی حکومت نے عدالت کو بریفنگ دینے کی استدعا کی جو عدالت نے منظور کرتے ہوئے نیپرا اور کے الیکٹرک سے چار ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ آئندہ دو ہفتوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے اسد عمر اور عمر ایوب عدالت کو آئندہ کے پلان سے متعلق بریفنگ دیں گے۔ کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں