212

کراچی میں بچوں نے 12 سال تک ماں کی لاش کو دفنانے کی بجائے گھر میں رکھا

گلشن اقبال سے خاتون کی 12 سال پرانی لاش کا ڈھانچہ ملا ہے جس کے بارے میں اس کے بھائی کا دعویٰ ہے کہ بہن کے بچوں نے ماں کو دفنانے کی بجائے گھر میں رکھا تھا۔
کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 11 کریسنٹ اپارٹمنٹ کے قریب نیپا انسٹیٹیوٹ کی دیوار کے پاس سے خاتون کی برسوں پرانی لاش کا ڈھانچہ ملا تو علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ پہنچی اور لاش کا پوسٹ مارٹم کیا۔ تحقیقات کے بعد لاش کی شناخت زکیہ خاتون کے نام سے ہوئی اور لاش پھینکنے والے معمر شخص محبوب کو حراست میں لیکر تفتیش کی گئی۔
ایس ایس پی ایسٹ تنویر عالم اوڈو کے مطابق خاتون کی لاش دس سے بارہ سال پرانی ہے اور صرف ڈھانچہ ہی رہ گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گزشتہ شب محبوب نے کچرا خانے کے قریب لاش پھینکی جو زکیہ خاتون کا بھائی ہے، اس کی عمر ستر سال ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ بہن کا انتقال کئی سال پہلے ہوا لیکن محبت میں زکیہ خاتون کے بیٹا اور بیٹی نے ماں کی لاش کو سنبھال کر گھر میں رکھ دیا، زکیہ خاتون اور ان کے دونوں بچے ڈپریشن کے مریض تھے۔
زکیہ خاتون کا بیٹا قیصر ریاض اور بیٹی شگفتہ ریاض غیر شادی شدہ تھے۔ قیصر ریاض اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نجی کمپنی میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھا۔ دونوں چار ماہ قبل فوت ہوگئے تو ان کا فلیٹ کافی عرصہ خالی پڑا رہا۔ بچوں کی رہائش گلشن اقبال میں ہی کسی اور جگہ تھی جبکہ جس گھر سے لاش ملی بہن کے بچے وہاں آتے جاتے رہتے تھے۔
محبوب نے کہا کہ اسے بہن کے انتقال کا نہیں پتہ تھا، ان کے بچوں کا بھی کسی سے ملنا جلنا نہیں تھا، اس نے بھانجا بھانجی سے ان کی والدہ کا معلوم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے نہیں بتایا، وہ دو دن پہلے وہ بہن کے اس فلیٹ گیا تو وہاں کوڑے کے ڈھیر لگے تھے اور بستر پر لاش پڑی تھی جو اس نے باہر نکال کر کچرے میں پھینکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں