38

کورونا وائرس سے بچوں کے متاثر ہونے کا امکان کم، اسکول کھولنے میں کوئی حرج نہیں، ماہرین طب

طبی ماہرین نے کراچی سمیت سندھ بھر میں 15 ستمبر سے اسکول کھولنے کے حکومتی فیصلے کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 15 ستمبر سے اسکول کھولنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کورونا وائرس سے بچوں کے متاثر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔
طبی ماہرین نے پریس کلب میں میڈیکل مائیکروبائیولوجی اینڈ انفیکشئس ڈیزیز سوسائٹی آف پاکستان کی جانب سے کورونا وائرس کی وبائی صورتحال میں اسکول دوبارہ کھولے جانے کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر بشری جمیل، ڈاکٹر عزیز اللہ، ڈاکٹر سعدیہ عامر، ڈاکٹر اسمہ نسیم، ڈاکٹر شوبہ لکشمی اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر عزیز اللہ نے کہا کہ کورونا وائرس ایک بڑی بیماری تھی لیکن اب عوام کو اس بیماری کے حوالے سے کافی آگاہی ہوگئی ہے، کورونا وائرس سے بڑے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور وہ لوگ زیادہ متاثر ہوئے جن کا مدافعتی نظام کمزور تھا یا دیگر بیماریوں سے متاثر تھے، یہ حیرت انگیز بات تھی کہ یہ بیماری بچوں میں بہت کم دیکھی گئی ہے اور جو بچے کورونا سے متاثر ہوئے وہ بہت جلدی صحتیاب ہوگئے تھے، بچوں کی تعلیم کو شروع کردینا چاہیے۔
ڈاکٹر سعدیہ عامر نے کہا کہ اسپتالوں میں قائم کورونا وائرس کے بچوں کے یونٹس بہت زیادہ استعمال نہیں ہوئے، بچوں میں کورونا پوزیٹوو بہت کم تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں، کراچی میں سب پارکس، ریسٹورینٹس، تفریحی مقامات کھول دیے گئے ہیں، جہاں بچے بھی جارہے ہیں اس کے باوجود کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہورہے ہیں لیکن احتیاط ضروری ہے کیونکہ وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے ختم نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکول انتظامیہ یہ بات دیہان میں رکھیں کہ ایس او پیز پر خود بھی عمل کریں اور بچوں کو بھی کروائیں، اگر اسکول کھلتے ہیں تو بچوں کو اسکول بھیجنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ڈاکٹر اسما نسیم نے کہا کہ بچوں میں کورونا وائرس کی بہت ہلکی (مائلڈ) علامات واضح ہوئی ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے، لوگوں کی یہ غلط سوچ ہے کہ وہ کورونا وائرس کو انفلوئنزا کی ایک قسم سمجھتے ہیں، کورونا وائرس اور انفلوئنزا وائرس میں بہت فرق ہے۔ انفلوئنزا وائرس بچوں میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے جبکہ کورونا وائرس نے بچوں کو بہت کم متاثر کیا ہے۔
ڈاکٹر شوبہ لکشمی نے کہا کہ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں کو اسکول جاتے وقت ہاتھ صاف رکھنے کا صحیح طریقہ بتائیں، صفائی ستھرائی کے تمام عوامل پر عملدرآمد کروائیں اس حوالے سے مختلف طریقوں سے بچوں کو تربیت دی جائے۔ احتیاط بہت ضروری ہے بچوں کو احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی ضرور فراہم کریں، بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ ایک دوسرے سے اسکول میں چیزیں شئیر کرتے ہیں فی الحال ایسا کرنے سے بچوں کو روکا جائے، بچوں کی سوشل اسکلز ختم ہوتی جارہی ہیں جنھیں بڑھانے کے لیے اسکولز کھولنا اب ضروری ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر بشری جمیل نے کہا کہ والدین کا کردار اس وقت بہت اہم ہے، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے، صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے، ہاتھ دھونے اور ماسک کا استعمال کا طریقہ کار سکھائیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں