242

کونسا فوجی افسر ہے جسے نشان حیدر کا اعزاز ملا لیکن وہ پاکستان میں مدفون نہیں ہے

5 دسمبر کا دن پاکستان کی فوجی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے اس دن اس حوالے سے تاریخی اوراق کو پلٹا کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ 5 دسمبر 1971 صبح دس بجے ہلی کے مقام پر پاک فوج کے ایک جواں ہمت اور پُرعزم فوجی افسر میجر محمد اکرم نے شہادت کا بلند مرتبہ اور مقام حاصل کیا 6 دسمبر 1971کو ان کی نماز جنازہ یونٹ کے ایک نائب خطیب نے پڑھائی اور اسی روز انہیں بوگراں شہر میں ڈھاکہ روڈ پر واقع ایک قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ملک عزیز کا دفاع کرنے والے اس جری اور بہادر افسر میجر اکرم شہید کو پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر عطا کیا۔ میجر اکرم نے مشرقی پاکستان کے محاذپر 1971کی جنگ میں دشمن کیخلاف سینہ سپر ہو کر ایک مثال قائم کردی۔ یاد رہے کہ میجر اکرم شہید کا تعلق ضلع گجرات کی تحصیل ڈنگہ میں اپنے ننھیال کے ہاں 4اپریل 1931ءکو پیدا ہوئے ان کا آبائی علاقہ ضلع جہلم سے بیس کلو میٹر جنوب میں پنڈ دادنخان روڈ کے قریب واقع ہے۔ میجر اکرم کے والد گرامی ملک سخی محمد بھی پاک فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں ان کی والدہ محترمہ کا نام عائشہ بی بی ہے جہلم میں شاندار چوک میں میجر اکرم کی یاد میں ایک خوبصورت یادگار بنائی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں