289

کیا یہ ہے نیا پاکستان اور قانون کی حکمرانی؟ وزیر اعظم کو میری نا پسندیدگی کا بتا دے: چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثما ن بزردار،سابق انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کلیم امام اور احسن جمیل گجر کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے ڈی پی او پاکپتن کے تبادلہ کے بارے ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا اورخبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی شکایت پر کیس دوبارہ کھول دیا جائے گا۔پیر کو ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اپناجواب جمع کرادیا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا وزیراعظم نے کہا ہے جب تک حکومت رہے گی، بزدار ہی وزیراعلیٰ رہے گالیکن وزیراعلیٰ عدالتی احکامات کے تابع رہے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کیا کار سرکار میں مداخلت جرم نہیں؟ کیا یہ حکومت ہے جو نیا پاکستان بنا رہی ہے ؟ وزیراعلیٰ نے اپنی کھال بچانے کیلئے سینئر افسر کو اس طرح کہہ دیا۔ اس دوران چیف جسٹس نے معاملہ کی انکوائری کیلئے جے آئی ٹی بنانے کی پیش کش کر تے ہوئے کہاکہ ہمیں بتا دیں، معاملہ کی انکوائری کس سے کرائیں ،وزیراعظم سے میری ناپسندیدگی کا اظہار کر دیں ،کیا یہ قانون کی حکمرانی ہے ؟کیا یہ ہے نیا پاکستان؟ آ گئے ہیں سارے ملکر نیا پاکستان بنانے ۔ چیف جسٹس نے مزید کہا جب ہم 62ون ایف کی انکوائری کرائیں گے تو نیا پاکستان بنے گا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ خالق داد لک کی حکومت پنجاب سے کیا دشمنی ہے ؟ کرامت کھوکھر کا معاملہ پی ٹی آئی کی ڈسپلنری کمیٹی کو بھیجالیکن اس معاملہ پر بھی کچھ نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا وزیر اعلیٰ کے جواب سے مطمئن نہیں، کل وزیر اعلیٰ کو بلوا لیں، خود انکوائری کرینگے ۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے معافی مانگتے ہیں۔ وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ، احسن جمیل گجر اور سابق آئی جی پنجاب کلیم امام کے معافی نامے جمع کرائے گئے ۔ عدالت نے تینوں معافی نامے قبول کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔سپریم کورٹ نے دیا مر بھاشا ڈیم سے متعلق خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان (جی بی) کے درمیان تنازع کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ڈیم کی حد بندی کے بارے تنویر احمد کی رپورٹ اور جی بی حکومت سے جواب طلب کرلیا ۔چیف جسٹس نے کہا بھاشا ڈیم کی تعمیر میں رخنہ اندازی نہیں ہوگی ،حد بندی کا معاملہ حل ہوچکا ہے ۔چیف جسٹس نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال پر ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈائون کا حکم دیا اور کہا کھلے عام منشیات کی سکولوں اور کالجوں میں فروخت تشویشناک ہے ،اگرمنشیات ختم نہ کرسکے تو مستقبل تباہ اور ایک بیمار قوم پیدا کریں گے ، ویڈیو دیکھی جس میں اچھے گھرکی لڑکی منشیات استعمال کررہی تھی، حیران ہوں ہمارے ادارے کیا کر رہے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ حدودچھوڑیں ،منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈا ئون کریں، جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا ایکشن لیں گے اورایک ہفتے میں رپورٹ فراہم کریں گے ۔سپریم کورٹ نے تحقیقات اور روک تھام کے لئے ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرتے ہوئے 10 روز میں جواب پیش کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت عظمیٰ نے گرے ٹریفکنگ کے خاتمہ کیلئے ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے کر 10 دن میں جامع رپورٹ اور تجاویز دینے کی ہدایت کی ہے ، کمیٹی میں ڈی جی آئی بی،چیئر مین پی ٹی اے ،آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر لیول کا افسر اور ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے شامل ہوں گے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریما رکس دیئے گرے ٹریفکنگ کے ذریعے ملک کے ساتھ بہت بڑا فراڈ ہورہا ہے ،اس میں ملوث افراد کو پکڑ کر ان سے حاصل کی جانے والی رقم کو ڈیم فنڈ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔عدالت عظمٰی نے غلط بیانی پر پاکپتن سے سابق رکن پنجاب اسمبلی چودھری جاوید کو توہین عدالت کے الزام مین اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ سچ اور جھوٹ کو الگ الگ کرنے کا وقت آگیا ہے ۔عدالت عظمیٰ نے ایف بی آر کے اربوں روپے کے 5 بڑے مقدمات کی سماعت کے لئے سپیشل بینچ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایف بی آر کے وکلا کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کردی۔عدالت نے ری فنڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کہا جاتا ہے کے اربوں روپے عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، 3 دن پہلے بھی چیئرمین سے پوچھا کہاں پیسے پھنسے ہیں؟ ایف آئی اے اپنے سر سے وزن اتار کر عدالت پر ڈال دیتا ہے ،غیر سنجیدہ مقدمہ بازی کر کے کہا جاتا ہے ،اربوں کے کیسز زیرالتواہیں۔سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں سرکاری ہسپتالوں کی کمی سے متعلق کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے اس ضمن میں پالیسی بنانے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی کی خاتون نایاب سکندر کو سکیورٹی دینے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے سندھ پولیس کو نایاب کو سکیورٹی فراہم کرنے اورملزمان کو پکڑنے کیلئے کوششیں جاری رکھنے کا حکم دیا اور پیش رفت رپورٹ 15روز میں طلب کرلی۔سپریم کورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین این ایچ اے سے نئی بھرتیوں سے متعلق بیان حلفی طلب کرلیا۔سپریم کورٹ نے 9سالہ بچی اریبہ نوشاد نانی کے حوالے کرتے ہوئے والد کی حوالگی کے لئے دائر درخواست خارج کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں