26

کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا کی عوامی سماعت شور شرابے کی نذر

کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا کی عوامی سماعت شور شرابے کی نذر ہوگئی۔
کراچی میں کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا کی عوامی سماعت ہوئی جس میں چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی اور کراچی چیمبر کے سابق صدر سراج قاسم تیلی میں تلخی ہوگئی۔
سراج قاسم تیلی نے کہا کہ اگر کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کی جائےتو کراچی کی تاجر برادری بجلی کی نئی ڈسٹری بیوشن کمپنی بنانے کو تیار ہے۔
چیئرمین نیپرا نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کے الیکٹرک کا لائسنس بھی تبدیل ہو جائے اور نئی کمپنی بھی سامنے نہ آئے۔ اس معاملے پر سراج قاسم تیلی اور چیئرمین نیپرا میں تلخی ہوئی۔
جاوید بلوانی نے چیئرمین نیپرا سے کہا کہ آپ ان اسٹیک ہولڈرز کو نہیں سنیں گے تو نیپرا یہاں کیوں آیا ہے۔ چیئرمین نیپرا نے سخت لہجے میں کہا کہ جو منظم انداز میں بات نہیں کریگا اسے ہال سے باہر نکال دیں جس پر عوام نے شور شرابا کرتے ہوئے یہاں وقت ضائع کرنے کیلئے ہمیں بلوایا گیا ہے۔
عوامی سماعت بدنظمی کا شکار ہوگئی اور ہال میں کے الیکٹرک کے خلاف اور انصاف کی فراہمی کیلئے شدید نعرےبازی کی گئی۔ نیپرا نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔
سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر عامر غازیانی نے کہا کہ نیپرا ایکٹ میں جو ترمیم کی گئی ہے اسکے تحت ہمیں 2023 تک کام کرنے کی اجازت ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کے الیکٹرک کے علاوہ دیگر کمپنیاں بھی بجلی کی ترسیل میں آئیں، لیکن نئی آنیوالی کمپنیوں کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ سستی بجلی کی ترسیل کیسے کرنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں