153

گرمی کے دوران لاہور چڑیا گھر اور سفاری پارک میں جانوروں کی خاطر تواضع

سورج کے آنکھیں دکھاتے ہی لاہور چڑیا گھر اورسفاری پارک میں جانوروں اور پرندوں کی خاطر تواضع شروع ہوگئی ہے۔
لاہور چڑیا گھرانتظامیہ کے مطابق چمپینزی، چیتے، شیر اور دیگر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ جانور سرد علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور زیادہ گرمی برداشت نہیں کرسکتے ہیں، ان کے پنجروں میں پنکھوں کے ساتھ ساتھ اب اضافی ائیرکولرلگائے گئے ہیں ، اسی طرح ان کے کمروں میں برف رکھی جاتی ہے ، ان کے پینے کا پانی باربارتبدیل کیاجاتا ہے جبکہ معمول کی خوراک کے ساتھ اضافی وٹامنزدیئے جاتے ہیں۔چڑیاگھرمیں جو دیگرجانوراورپرندے ہیں ان کے پنجروں میں دن میں دوسے تین مرتبہ پانی کا چھڑکاؤ کیاجاتا ہے تاکہ زمین کی حدت کم ہوسکے۔بعض جانوروں کے احاطوں میں پانی کی پھوارپیداکرنے والے شاورلگائے گئے ہیں۔
لاہور چڑیا گھرکی نسبت سفاری زُو میں شیروں اور ٹائیگرز کے لیے گرمی کے موسم میں کھلی سفاری ایک بہت بڑی نعمت ہے جہاں مصنوعی جنگل کا ماحول ہے، گرمی سے سستائے شیر اورٹائیگردرختوں کے جنڈ کے نیچے بیٹھے رہتے ہیں، انتظامیہ نے سفاری کے اندرایک تالاب بھی بنارکھا ہے جس کے پانی میں لیٹ کرجنگل کا بادشاہ موج مستی کرتا ہے۔
لاہورسفاری پارک کے ڈپٹی ڈائریکٹرشفقت علی کہتے ہیں جب شیراورٹائیگرپنجرے میں ہوتے ہیں توہم وہاں برف رکھتے ہیں ، دوسرا ان کے پنجروں کے سامنے سایہ داردرخت لگائے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں گرمی کی شدت کم ہوجاتی ہے۔اسی طرح پرندوں کی ایوری میں بہت زیادہ سایہ دار درخت ہے ، اس کے باوجود وہاں پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں تاکہ درجہ حرارت کم ہوسکے۔
ویٹرنری ماہرین کا کہنا ہے جنگلی جانور اور پرندے موسم کی شدت کا مقابلہ کرنے کی قدرتی صلاحیت بھی رکھتے ہیں تاہم پنجروں میں بند ان جانوروں اور پرندوں کی قوت مدافعت جنگلی جانوروں کی نسبت کمزورہوتی ہے اس لئے ان کوموسم کی شدت سے بچانے کے لئے اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں