150

گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں کیخلاف فوری کارروائی کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر ملیر اور کورنگی کو گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں کیخلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔
جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو ملیر ندی کی سرکاری اراضی پر گٹر کے پانی سے سبزیاں اگانے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے ڈپٹی کمشنر ملیر اور کورنگی کو گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں کیخلاف فوری کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ملیر ندی کی سرکاری زمین کی الاٹ سے متعلق بھی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔
جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنرز ملیر ندی کا جاکر معائینہ کریں اور اگر سیوریج کے پانی سے سبزیاں اگائی جا رہی ہیں تو تلف کی جائیں، ہمیں ڈپٹی کمشنرز کا جواب دیکھ کر تعجب ہوا، ڈپٹی کمشنرز تو عوام کی مدد کے لیے لائے گئے ہیں اور آپ خود کسی سے مدد مانگ رہے ہیں؟ لوکل ایڈمنسٹریشن آپ کے پاس ہے کیا ایس ایس پی اور ڈی آئی جی سے نفری نہیں طلب کرسکتے؟
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ گٹر کے پانی سے سبزیاں اگانے والوں کیخلاف کارروائی شروع کی جارہی ہے، اسلم بھٹہ ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ ملیر ندی کی زمین سندھ حکومت نے 30 سال کے لیے لیز پر دی تھی، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کیا زمین گٹر کے پانی سے سبزیاں اگانے کے لیے الاٹ کی گئی ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہم کہتے ہیں غلط کام نہیں ہونا چاہیے اگر زمین لیز پر دی بھی گئی ہے تو وہاں گٹر کے پانی سے سبزیاں اگائیں گے؟
عدالت نے سبزیاں اگانے والے فریقین کے وکیل سے بھی 19 مئی کو تحریری جواب طلب کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں