74

ہرقسم کے درد سے عاری پاکستانی خاندان، وجہ جینیاتی قرار

پاکستان میں ایک ایسے خاندان کا انکشاف ہوا ہے جو کئی طرح کے درد سے عاری ہے۔ اس خاندان کے دوبھائیوں اور ایک چچا ایک نایاب جینیاتی مرض کے شکار ہیں جسے ’ موروثی طور پر حساسیت سے ازخود نیوروپیتھی ٹائپ ٹو یعنی HSANII کا نام دیا گیا ہے۔
اس خاندان پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے جسموں کے ڈی این اے میں پائے جانے والا ایک خاص جین WNK1 نارمل نہیں اور اسی نقص کی وجہ سے وہ درد محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جسموں پر چوٹ، زخم اور کھرونچوں کے نشانات ہیں کیونکہ انہیں درد کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

ایچ ایس اے این ٹو: ایک کمیاب جینیاتی کیفیت
ایچ ایس اے این ٹو ایک بہت ہی کمیاب موروثی کیفیت ہے۔ اس کے آثار بچپن میں ہی ہاتھ اور پیر سُن ہونے کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد سرد اور گرم کا احساس رخصت ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اگر چوٹ لگ جائے یا زخم کھل جائے تو وہ محسوس نہیں ہوتا۔ بسااوقات وہ اپنے زخموں کا علاج نہیں کرواتے جس سے اعضا خراب ہوجاتے ہیں اور انہیں کاٹنا بھی پڑجاتا ہے۔
ایسے مریض معمولات کے دوران غیرارادی طور پر خود کو زخمی کرلیتے ہیں، انگلی کاٹ لیتے ہیں، زبان دانتوں تلے چبالیتے ہیں اور یوں درد نہ محسوس کرنا ان کے لیے ایک وبال بن جاتا ہے۔

پاکستانی خاندان کا احوال
کینیڈا کے سینٹرفارایڈکشن اینڈ مینٹل ہیلتھ کے جان ونسنٹ، پاکستان میں واہ میڈیکل کالج کے مطلوب اعظم اور دیگر دو سائنسداں نے یہ تحقیق کی ہے جس کی تفصیلات ’جرنل آف ہیومن جینیٹکس‘ میں شائع ہوئی ہیں۔
ماہرین نے اس خاندان کی نشاندہی نام اور تفصیل نہیں بتائی ہے بس اتنا کہا ہے کہ 18 سالہ اور 11 سالہ دو بھائیوں کا تعلق پنجاب سے ہے اور ان کے 32 سالہ چچا بھی اس کیفیت کے شکار ہیں لیکن چچا تحقیق کے لیے موجود نہ تھے۔ دونوں لڑکے پیدائشی طور پر درد محسوس نہیں کرپاتے۔ یہ خاندان خود کو راجپوت کہتا ہے
ان میں سے بڑے بھائی کی ایک انگلی میں نقص دیکھا گیا ہے اور جلد کی رنگت جگہ جگہ سے غیریکساں ہے، لیکن چار سال قبل ایک واقعے میں اس کے دونوں پیر کاٹے جاچکے ہیں۔ دونوں کے ڈی این اے کا مکمل تجزیہ کیا گیا تو WNK1 میں نقص تھا۔
پروفیسر جان ونسنٹ نے ایک ای میل میں کہا کہ یہ جین پاؤں اور ہاتھوں کے کنارے درد سے آزاد ہوجاتے ہیں لیکن جسم کے اندرونی بڑے اعضا کا درد بہرحال محسوس ہوتا ہے۔
بلوغت پر ایسے افراد کی ہڈیاں غیرارادی طور پر ٹوٹتی ہیں، گہرے زخم لگتے ہیں اور انگلیاں یا عضو کاٹنے بھی پڑجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک اور خاندان میں یہ کیفیت دیکھی گئی ہے لیکن اس کی وجہ ایک دوسرا جین ہے جسے ایس سی این نائن اے کہا جاتا ہے۔ تاہم دونوں خاندانوں میں جینیاتی امراض کی بنیادی وجہ نسل در نسل ایک ہی خاندان میں کی گئی شادیاں بھی بتایا گیا ہے۔

کیا پاکستان جینیاتی امراض کا گڑھ ہے؟
اس کا جواب 100 فیصد ہاں میں ہے جس کی بڑی وجہ نسل در نسل خاندان میں ہونے والی شادیاں ہیں۔ اس بنا پر عجیب و پراسرار امراض جنم لے رہے ہیں جن میں سے اکثر پر تحقیق ہی نہیں کی جاتی۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 50 فیصد شادیاں خاندانوں میں ہی ہوتی ہیں اور اس طرح جینیاتی امراض ضرب کھا کر جمع ہوتے رہتے ہیں۔
اسی سال ملکی اور بین الاقوامی ماہرین نے ایسے کئی جینیاتی امراض دریافت کیے ہیں جو صرف پاکستانی آبادی میں ملے ہیں۔ مثلاً اے ڈی سی وائی تھری جین میں تبدیلی شدید موٹاپے اور سونگھنے کی ناقص صلاحیت کی وجہ بنتی ہے جو اس سال بطورِ خاص پاکستان میں دریافت ہوا ہے۔
اس کے علاوہ مارک تھری جین کی خرابی سے سندھ میں ایک ایسی نایاب جینیاتی بیماری دریافت ہوئی ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ آنکھیں غائب ہوجاتی ہیں۔
دوسری جانب کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے پاکستانی آبادی میں موجود جینیاتی تبدیلیوں کا پہلا ڈیٹابیس مرتب کیا ہے۔ اس میں 1000 ایسی جینیاتی تبدیلیوں کو شامل کیا گیا ہے جو 120 امراض یا سنڈروم کی وجہ بن رہی ہیں۔ اسی بنا پر پاکستان میں جینیاتی امراض کے ایک مرکز کی تعمیر ناگزیر ہے تاکہ پوری آبادی میں پراسرار اور ان سنی بیماریوں کا جائزہ لیا جاسکے۔
جان ونسنٹ نے بتایا کہ اسی لیے وہ پاکستان میں خاندانی شادیوں کی وجہ سے ہونے والے امراض پر مزید تحقیق بھی کرنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں