21

تشدد سے ہلاک کمسن گھریلو ملازمہ ثناء کے لواحقین نے ملزم مالکان کو معاف کردیا

سیشن کورٹ لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ ثناء قتل کیس کی سماعت میں بڑی پیش رفت ہوئی۔
مقتول بچی کے لواحقین نے قتل کے ملزمان ڈاکٹر حمیرا اور اسکے شوہر کو معاف کردیا۔ ایڈیشنل سیشن جج عمران شفیع نے مقتولہ کے لواحقین کے بیانات کو قلمبند کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ کی رضا کی خاطر ملزمان کو معاف کرتے ہیں،عدالت ملزمان ڈاکٹر حمیرا اور اسکے شوہر کو مقدمے سے بری کردے۔
ملزمہ ڈاکٹر حمیرا اور اسکے شوہر کے خلاف تھانہ چوہنگ پولیس نے مقدمہ درج کررکھا تھا۔ دونوں ملزمان پر کمسن ملازمہ ثناء کو تشدد کرکے قتل کرنے کا الزام تھا۔ ان کی ضمانتیں پہلے ہی منظور ہوچکی ہیں۔
رواں سال جنوری میں لاہور میں چوہنگ کے علاقے میں 15 سالہ گھریلو ملازمہ ثناء کو تشدد کے بعد قتل کردیاگیا تھا جس کے قتل کے الزام میں پولیس نے مالکن ڈاکٹر حمیرا اور اس کے شوہر جنید کو حراست میں لیا تھا۔
تشدد سے ہلاک کمسن گھریلو ملازمہ ثناء کے لواحقین نے ملزم مالکان کو معاف کردیامالکان کا کہنا تھا کہ بچی تین دن پہلے سیڑھیوں سے گرکر زخمی ہوگئی تھی لیکن وہ اسے اسپتال لے جانے کی بجائے گھر پر ہی اس کا علاج کرتے رہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا تھا کہ بچی کے جسم پر تشدد کے بے شمار نشانات تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں