211

پاکستان کی محبت میں 35سال بعد فرانس سے وطن آکر بھاری سرمائے سے ہسپتال بنانے والے پاکستانی نژاد فرانسیسی شہری کا تمام جائیدا بیچ کر پاکستان چھوڑنے کا اعلان

لاہور(آن لائن)ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور میں نیشنل ہاسپٹل اینڈ میڈیکل سنٹر بنانے والے پاکستانی نژاد فرنچ نیشنل محمود بھٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کرایک بار پھر پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ۔محمود بھٹی لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور 35سال تک فرانس میں مقیم رہے ۔وطن کی محبت میں پاکستان واپس آکر خطیر سرمائے سے ہسپتال بنایا لیکن گزشتہ روز چیف جسٹس کی ڈانٹ ڈپٹ سے دلبرداشتہ ہو کر ایک بار پھر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔محمود بھٹی نے خطیر سرمایہ سے ڈی ایچ اے لاہور میں نیشنل ہاسپٹل اینڈ

میڈیکل سنٹرقائم کیا تھا۔گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہسپتال کا اچانک دورہ کیا تو انتظامی عہدیداروں کے علاوہ محمود بھٹی خود بھی موجود تھے ۔چیف جسٹس آف پاکستان نے مریضوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تم چوروں کے ہاتھ میں پھنس گئے ہو یہاں سے کیسے نکلوگے ۔چیف جسٹس کو جب محمود بھٹی نے بریف کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اسے ڈانٹ دیا اور کہا کہ ہاتھ کو ہلائے بغیر بات کریں آپ نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مریضوں سے فیس وصول کی ہے ۔ چیف جسٹس محمود بھٹی کو حکم دیا کہ عدالت میں بھی پیش ہونا اور کپڑے تبدیل کرکے آنا۔جناب چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میں اس ہسپتال کی قانونی پوزیشن کا بھی جائزہ لوں گا کہ اسے کس طرح چلایا جارہا ہے جسٹس میاں ثاقب نثار نے موقع پرموجود ایف آئی اے اہلکاروں کوہدایت کی کہ اس ہسپتال کے تمام امور کا جائزہ لیا جائے ۔ چیف جسٹس نے ہسپتال کے انتظامی عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تو بہتر آپ مریضوں کو دوگولیاں دے کر مار دیا کرو تاکہ ان کی جان ہی چھوٹ جائے ۔اسی دوران انہوں نے دوبارہ محمود بھٹی کو طلب کرکے سرزنش کی ۔محمود بھٹی نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے کہا کہ حضور میں نے غریبوں کے لئے بہت کام کیا ہے اور مزید بھی آپ جیسا کہیں گے ہم کریں گے لیکن چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے غریبوں کیلئے کچھ نہیں کیا ۔بعد ازاں محمود بھٹی نے اپنے قریبی دوستوں سے مشورہ کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مجھے اب احساس ہوا ہے کہ پاکستان میں لوگ سرمایہ کاری سے کیوں گھبراتے ہیں میں اپنا سب کچھ لیکر پاکستان آیا اور یہاں آکر سرعام بے عزت کردیا گیا ۔محمود بھٹی نے اپنے قریبی دوستوں سے بہت دکھ بھرے انداز میں حال دل بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے قانونی دولت کے ذریعے پاکستان میں قانونی طریقے سے ہسپتال قائم کیا لیکن اس واقعہ کے بعد اندازہ ہوا ہے کہ یہاں قانون کااحترام کرنیوالوں کا کوئی مقام نہیں ہے۔لہذا میں نے فوری طور پر تمام جائیداد فروخت کرکے دوبارہ فرانس منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب کبھی پاکستان نہیں آؤں گا ۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں قائم پرائیویٹ ہسپتال مریضوں کو اہم ترین سہولیات دے کر ان سے فیس وصول کرتے ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے نہ ہی بیڈ ہوتا ہے اور نہ ہی ادویات ہوتی ہیں اس لئے لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں اور ایسا بھی نہیں ہے کہ پرائیویٹ ہسپتال زبردستی لوگوں کواپنے پاس داخل کرکے فیس وصول کرتے ہیں ۔محترم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے معاملے کی پوری طرح چھان بین کے بغیر ہی ایک محب وطن شہری کوکھلی کچہری میں ڈانٹ ڈپٹ کرنا باقی ماندہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پورا حق رکھتے ہیں کسی بھی ایسے پرائیویٹ ہسپتال کیخلاف کارروائی کا جو غیر قانونی طریقے سے بنایا گیا ہو اور جہاں پر کسی مریض کا غلط علاج کیا گیا ہو لیکن آئین اور قانون پھر بھی کسی امیر یا غریب کی دل شکنی کی اجازت نہیں دیتا۔محترم چیف جسٹس نجی ہسپتالوں اور سرکاری ہسپتالوں کے دورے ضرور کریں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھا جانا بہت ضروری ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور کہیں ایسا نہ ہو کہ محترم چیف جسٹس غریبوں کی دعائیں لیتے لیتے اللہ کو بہت ہی پسند کسی سخی امیر کی بدعا کا شکار ہوجائیں ۔ یقیناً چیف جسٹس آف پاکستان کے ہسپتالوں کے دورے نیک نیتی پر مبنی ہیں مگر اس میں تمام فریقوں کی عزت نفس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔ عدالتیں انصاف فراہم کرکے عوام کی عزت بحال کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہیں اس لئے ان پہلوؤں کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کسی شہری کی عزت پامال تو نہیں کردی گئی؟ بہرحال محمود بھٹی نے دکھی دل کے ساتھ پاکستان چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں